بہاولنگر(پنجاب پوسٹ) بہاولنگر میں اندون شہر آتشزدگی جیسے ہنگامی حالات سے بروقت نمٹنے کے لیے لاکھوں روپے کی لاگت سے نصب کیے جانے والے جدید ہائڈرنٹس محکمہ واسا کی انتظامی غفلت اور مبینہ کرپشن کا شکار ہو کر ناکارہ ہوچکےہیں، چھے ماہ گزر جانے کے باوجود ان فائر سیفٹی آلات کو فنکشنل نہیں کیا جاسکا،ان آلات کی مضبوطی کے لئیے ناقص میٹیریل سے بنائ گئ برجیاں ٹوٹ جانے سے ہائڈرنٹس جھولتے ہوئے نظر آتے ہیں،دومختلف مقامات سے ہائڈرنٹ مکمل طور پر غائب بھی ہوچکے ہیں،
بہاولنگر شہر کی اہم شاہراہوں اور بازاروں میں اچانک لگنے والی آگ پر بروقت قابو پانے کے لیے جدید ترین ہائڈرنٹس نصب کئیے گئے،ان آلات کی تنصیب کا مقصد پانی کی بروقت اوربلا تعطل فراہمی کویقینی بنانا تھا،لیکن یہ منصوبہ واسا کی انتظامی غفلت اور مبینہ کرپشن کی نظر ہوکر ناکارہ ہوچکا ہے،واسا حکام چھےماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود ہائڈرنٹس کو فنکشنل نہیں کرسکے.
افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ دو مقامات ٹھیکہ افیم چوک اور جیل روڈ پر جو ہائڈرنٹس نصب کئیےگئے تھے وہ مکمل طورپر غائب ہو چکے ہیں، کچھ ہائڈرنٹس کے ہینڈل وال اور بجلی کی تاریں بھی چوری ہوچکی ہیں،ان ہائ ڈرنٹس کی مضبوطی کے لیے پختہ برجیاں بنائ جانی تھیں مگر متعدد مقامات پر برجیاں بنائی ہی نہیں گئیں اور جہاں بنائی گئیں وہاں انتہائی ناقص میٹیریل استعمال ہونےکی وجہ سے برجیاں مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ چکی ہیں،ریت اور سیمنٹ کے بند تھیلے مختلف دوکانوں پر پڑے خراب ہو چکے ہیں۔
ان آلات کی حفاظت کے لیے بنائے گئے جنگلوں میں سے صرف منچن آباد چوک پر ایک جنگلہ نصب کیاگیا تھا جو اب اپنی جگہ سے اکھڑ چکا ہے۔جبکہ باقی جنگلے واسا آفس میں محفوظ پڑے ہیں۔









