اب پنجاب کے دریاؤں سے مچھلی پکڑنے والے جیل جائیں گے، حکومت کی نئی حکمت عملی کیا ہے ؟

لاہور (پنجاب پوسٹ) محکمہ آبی زراعت و ماہی گیری پنجاب نے صوبہ بھر میں غیر قانونی ماہی گیری کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کردیا، مختلف اضلاع میں دریاؤں پر چھاپوں کے دوران غیر قانونی جال، مچھلیاں اور دیگر سامان ضبط کرلیا گیا جبکہ گرفتار افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی۔

سیکرٹری آبی زراعت و ماہی گیری پنجاب رانا محمد سلیم افضل کی غیر قانونی شکار کی روک تھام کے حوالے سے زیرو ٹالرینس پالیسی اور ڈائریکٹر آبی زراعت پنجاب ڈاکٹر محمد عابد کی ہدایت پر صوبہ بھر میں کارروائیاں کی گئیں۔

اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز قصور کی ٹیم نے رات کے وقت دریائے راوی، ہیڈ بلوکی ڈاؤن اسٹریم پر اچانک چھاپہ مار کر غیر قانونی ماہی گیری میں استعمال ہونے والے 4 نائلون کے جال قبضے میں لے لیے اور ضابطے کی کارروائی کی۔

بہاولپور کی ڈویژنل ریڈ پارٹی نے دریائے ستلج کے نواح میں تحصیل بہاولپور اور خیرپور کے علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے 3 پٹی جال ضبط کرلیے۔

میانوالی میں خفیہ اطلاع پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز کی ٹیم نے ماری اسٹیشن، کالا باغ پر کارروائی کی، جہاں ایک گروہ رات کی تاریکی میں غیر قانونی طور پر پکڑی گئی مچھلی ٹرین کے ذریعے ملتان منتقل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ٹیم نے ٹرین کی روانگی کے وقت بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کرلیا، جبکہ غیر قانونی مچھلی اور جال بھی بحقِ سرکار ضبط کرکے قانونی چارہ جوئی شروع کردی گئی۔

ساہیوال میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز نے فیلڈ اسٹاف کے ہمراہ دریائے راوی، میرن شاہ اور داد بلوچ، تحصیل ساہیوال میں غیر قانونی ماہی گیری کی چیکنگ کی، جہاں سے لڑ جال، موبائل فون اور ٹیوب ضبط کرلی گئی۔

محکمہ ماہی گیری کے حکام کا کہنا ہے کہ آبی حیات کے تحفظ اور غیر قانونی ماہی گیری کے مکمل خاتمے کے لیے بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی، قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف آپریشن جاری رکھا جائے گا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے