لاہور(پنجاب پوسٹ)مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ عسکری حکام کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں تینوں ممالک نے معاہدے کے عہد و پیمان کو عملی اور مؤثر عسکری تعاون میں ڈھالنے کے عزم کا اظہار کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کی، جبکہ ترکیہ کی جانب سے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق اور سعودی عرب کی جانب سے چیف آف جنرل اسٹاف نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، خصوصاً سعودی عرب کو درپیش خطرات پر غور کیا گیا۔ شرکاء نے مکہ مکرمہ کے علاوہ شہری اور اقتصادی بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کی۔ اس کے ساتھ ساتھ تینوں ممالک کی مسلح افواج کے مابین تعاون کو مزید وسعت دینے اور انٹیلی جنس شیئرنگ بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اجلاس میں عسکری ہم آہنگی کو مؤثر بنانے اور دفاعی صلاحیتوں کے انضمام کے مختلف طریقہ ہائے کار پر بھی غور کیا گیا۔ شرکاء نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے عوام اور مسلح افواج کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات اور باہمی اعتماد کو خصوصی طور پر سراہا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ اجلاس تینوں ممالک کے مابین دفاعی شراکت داری کو مضبوط بنانے اور مشترکہ دفاع کے عزم کا واضح مظہر ہے۔ اختتام پر شرکاء نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنے پختہ عزم کا ازسرِنو اعادہ کیا۔
واضح رہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور وزیراعظم شہباز شریف کے دستخطوں سے طے پایا تھا، جس کا مقصد کسی بھی جارحانہ کارروائی کے خلاف اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے اور اس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھین:سینئر رہنما مسلم لیگ ن خواجہ احمد حسان کی ترکیہ کے قونصلیٹ جنرل آفس لاہور کا دورہ











