پاکستان میں پٹرول کی بڑھتی قیمتیں، پیٹرولیم سیکٹر میں ملکی ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن معاہدے ، 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے امکانات

لاہور (پنجاب پوسٹ) پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے تناظر میں ملکی ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آگئی، پاکستان کی 4 مقامی ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن کے معاہدے طے پا گئے ہیں جبکہ منصوبوں پر 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق اٹک نیشنل پاکستان ریفائنری اور سنرجیکو نے ریفائنری اپ گریڈیشن کے معاہدوں پر دستخط کر دیے ہیں، منصوبے 5 سال میں مکمل کیے جائیں گے۔ پاک عرب ریفائنری تاحال اپ گریڈیشن معاہدے پر آمادہ نہیں ہوئی، جبکہ پارکو کی شمولیت سے مجموعی سرمایہ کاری 6 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔

حکام کے مطابق ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن کا مقصد پاکستان کی توانائی سیکیورٹی کو مضبوط بنانا اور درآمدی پٹرولیم مصنوعات کا متبادل پیدا کرنا ہے۔ اپ گریڈیشن کے بعد یورو فائیو معیار کا صاف ایندھن تیار کیا جائے گا جبکہ سالانہ تقریباً 1.5 ارب ڈالر زرمبادلہ بچانے کا اندازہ ہے۔

منصوبے کے تحت پٹرول کی پیداوار میں 72 فیصد اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی یومیہ پیداوار 10,700 ٹن سے بڑھ کر 18,400 ٹن ہو جائے گی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی پیداوار 39 فیصد بڑھانے کا ہدف ہے، جس سے ڈیزل کی یومیہ پیداوار 21,240 ٹن سے بڑھ کر 29,520 ٹن ہو جائے گی۔

ریفائنریوں میں فرنس آئل کی پیداوار میں 63 فیصد کمی کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے، فرنس آئل کی یومیہ پیداوار 15,417 ٹن سے کم ہو کر 5,714 ٹن رہ جائے گی۔ ریفائنریوں کو موٹر گیسولین اور ڈیزل کی پیداوار بڑھانے جبکہ کم ترجیحی ایندھن کی پیداوار کم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

یورو فائیو معیار کے تحت پٹرول اور چ کی حد 10 پی پی ایم مقرر ہے۔ نئی پالیسی کے تحت ریفائنریوں کو 7 سال تک ٹیرف تحفظ حاصل ہوگا جبکہ پٹرول اور ڈیزل پر کم از کم 10 فیصد کسٹمز یا ریگولیٹری ڈیوٹی مقرر ہوگی۔

ذرائع کے مطابق ریفائنری اپ گریڈیشن کے لیے خصوصی ایسکرو اکاؤنٹس قائم کیے جائیں گے جبکہ اپ گریڈیشن میں استعمال ہونے والے آلات اور مواد کو سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے گا۔

اپ گریڈیشن کے بعد ریفائنریوں کو 14 دن کے خام تیل کا ذخیرہ رکھنا ہوگا، جبکہ درآمدی خام تیل پر انحصار کرنے والی ریفائنریوں کو مزید 5 دن کا ذخیرہ رکھنا ہوگا۔

حکام کے مطابق ملکی طلب پوری ہونے کے بعد اضافی پٹرولیم مصنوعات برآمد بھی کی جا سکیں گی۔ ریفائنریاں اوگرا لائسنس یافتہ کسی بھی آئل مارکیٹنگ کمپنی کو مصنوعات فروخت کر سکیں گی، تاہم ریفائنریوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے درمیان لازمی سپلائی معاہدے ہوں گے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے