رحیم یار خان (پنجاب پوسٹ) خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں مبینہ جنسی ہراسانی اور بلیک میلنگ کے معاملے پر محتسب پنجاب نے نوٹس لیتے ہوئے فوری فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کردی۔
خاتون محتسب پنجاب ڈاکٹر نجمہ افضل خان کے مطابق مبینہ ہراسانی کے معاملے کی تحقیقات کیلئے 5 رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جس میں 3 مرد اور 2 خواتین ارکان شامل ہوں گے۔
انکوائری کمیٹی میں آئی ٹی اور ڈیجیٹل شواہد کے ماہر کے علاوہ ہراسانی اور ڈیجیٹل شواہد سے متعلق قانونی ماہر کو بھی شامل کیا جائے گا۔ کمیٹی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے اسکرین شاٹس اور دیگر ڈیجیٹل مواد کی صداقت کا بھی جائزہ لے گی۔
یہ بھی پڑھیں: قصور،14 سالہ بچے کی پراسرار موت ، خود کشی کا شبہ ،لواحقین کا پھپھو پر قتل کا الزام
محتسب پنجاب کے مطابق الزامات کا سامنا کرنے والے فرد کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا مکمل موقع دیا جائے گا، جبکہ انکوائری کے دوران رازداری، وقار، شواہد کے تحفظ اور قدرتی انصاف کے اصولوں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔
ڈاکٹر نجمہ افضل خان نے کہا کہ الزامات ثابت ہونے کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، جبکہ جعلی مواد یا کسی شخص کو بدنام کرنے کی کوشش ثابت ہونے پر بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
متعلقہ انکوائری کمیٹی کو 30 روز میں جامع فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔










