قصور (پنجاب پوسٹ) قصور کی واپڈا کالونی میں حافظِ قرآن 14 سالہ انس کی پراسرار موت کا واقعہ، لواحقین نے خودکشی کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے پھوپھو پر گلے میں پھندہ دے کر مبینہ قتل کرنے کا الزام عائد کر دیا۔ لواحقین نے واقعے کی شفاف تحقیقات اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ مزید تفصیلات اس رپورٹ میں۔
قصور کی واپڈا کالونی میں حافظِ قرآن 14 سالہ انس کی پراسرار موت کا معاملہ معمہ بن گیا۔ ابتدائی طور پر واقعے کو خودکشی قرار دیا گیا، تاہم لواحقین نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کے محمد علی رانا نے یورپین ڈس ایبل سنوکر چیمپئن شپ 2026 میں گولڈ میڈل جیت لیا
لواحقین کا کہنا ہے کہ حافظِ قرآن انس نے خودکشی نہیں کی بلکہ اسے مبینہ طور پر گلے میں پھندہ دے کر قتل کیا گیا، اور اس حوالے سے بچے کی پھوپھو پر الزام عائد کیا گیا ہے۔
لواحقین کے مطابق پھوپھو نے ہی انس کو پالا تھا، تاہم اب وہی مبینہ طور پر قتل میں ملوث ہونے کا الزام لگا رہے ہیں۔
لواحقین نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں، جبکہ اصل حقائق تفتیش اور شواہد سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوں گے۔










