لاہور (پنجاب پوسٹ) جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ اکتوبر میں لانگ مارچ کی تیاریاں جاری ہیں، جبکہ کل لاہور میں جلسہ منعقد کیا جائے گا جس میں امیر جماعت اسلامی آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ منصورہ میں دیگر پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ جلسے میں لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں سے عوام بھرپور شرکت کریں گے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ ملک اس وقت بڑے سیاسی بحران سے دوچار ہے، جمہوریت، عوامی و شہری حقوق اور عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے صورتحال تشویشناک ہے۔ وفاق صوبوں کو مطمئن کرنے کے بجائے نئے تنازعات پیدا کر رہا ہے، جس سے تعصبات میں شدت آرہی ہے، جبکہ ہائبرڈ نظام عملی طور پر ناکام ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی صورتحال انتہائی کربناک ہے اور وہاں کے عوام پریشانی سے دوچار ہیں، وزیراعظم بلوچستان کے معاملے پر قومی کانفرنس بلانے میں بھی ناکام رہے۔ خیبرپختونخوا اور وفاق کی لڑائی کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں، جبکہ آزاد کشمیر میں عوامی احتجاج کو سو روز گزر چکے ہیں لیکن تاحال کوئی مؤثر حل سامنے نہیں آیا۔
نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی نے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے خلاف بھی آواز بلند کی۔ حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں آئی پی پیز کے خلاف تاریخی احتجاج اور دھرنے دیے گئے، جس کے نتیجے میں حکومت کے ساتھ تحریری معاہدہ بھی ہوا۔
لیاقت بلوچ کے مطابق اویس لغاری نے جماعت اسلامی کو بریفنگ میں بتایا کہ 10 آئی پی پیز ختم ہونے کے قریب ہیں جبکہ 21 آئی پی پیز کے حوالے سے کارروائی آخری مرحلے میں ہے، چین کے آئی پی پیز سے بھی بات چیت جاری ہے اور حکومتی آئی پی پیز کے معاملے میں بھی پیش رفت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے، جبکہ ایک لیٹر پٹرول پر 107 روپے لیوی ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔










