پاکستان ریلوے لاہور کے ڈویژنل سگنل اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن انجینئر ندیم اقبال خٹک کی گریڈ 17 اور 18 میں ترقی پر سوالات اٹھ گئے

لاہور (پنجاب پوسٹ) پاکستان ریلوے لاہور کے ڈویژنل سگنل اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن انجینئر (ڈی ٹی ای) ندیم اقبال خٹک کی گریڈ 17 اور 18 میں ترقی پر سوالات اٹھ گئے ہیں، جس کے بعد ان کے خلاف محکمانہ سطح پر انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ندیم اقبال خٹک کی انجینئرنگ ڈگری کے حصول کے لیے محکمانہ این او سی کا معاملہ بھی سوالیہ نشان بن گیا ہے، جبکہ ان کا سابقہ نیسپاک (نیشنل انجینئرنگ سروسز پاکستان) میں ملازمت کا ریکارڈ بھی سامنے آگیا ہے۔

ندیم اقبال خٹک پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے پاکستان ریلوے اور نیسپاک میں بیک وقت ملازمت کی اور دونوں اداروں سے دوہری تنخواہ وصول کی۔ اس کے علاوہ گریڈ 18 میں ان کی ترقی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں، الزام ہے کہ مطلوبہ کوالیفائنگ سروس مکمل ہونے سے قبل ہی انہیں ترقی دے دی گئی۔نیوز چینل نے ندیم اقبال خٹک کے سروس ریکارڈ سے متعلق اہم دستاویزات حاصل کر لی ہیں، جن میں تعلیمی، سروس، حاضری اور ملازمت سے متعلق ریکارڈ شامل ہے۔ ان دستاویزات کی روشنی میں الزامات کی تصدیق کے لیے متعلقہ ریکارڈ طلب کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ڈویژنل سگنل اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن انجینئر ندیم اقبال خٹک کے خلاف موصول ہونے والی شکایات پر پاکستان ریلوے میں انکوائری جاری ہے۔ اس ضمن میں چیف انجینئر فرید احمد کو انکوائری آفیسر مقرر کیا گیا ہے، جو معاملے کی چھان بین کر رہے ہیں۔ تاہم ذرائع کے مطابق ندیم اقبال خٹک کے خلاف مبینہ بےضابطگیوں کی انکوائری تاحال مکمل نہیں ہو سکی اور حتمی فیصلہ زیرِ التوا ہے۔

انکوائری کے دائرے میں گریڈ 17 اور 18 میں ترقی، تعلیمی ڈگری، محکمانہ این او سی اور نیسپاک میں ملازمت سمیت مختلف معاملات شامل ہیں۔ ریلوے حکام کی جانب سے ان کے سروس ریکارڈ کی چھان بین کی جا رہی ہے اور اہم دستاویزات کو انکوائری کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔

اپنے خلاف الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے ڈی ٹی ای ندیم اقبال خٹک نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ان کے مخالفین کا پراپیگنڈہ ہے اور حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جس معاملے کی بات کی جا رہی ہے وہ دس سے بارہ سال پرانا کیس ہے اور اس میں کوئی صداقت نہیں۔واضح رہے کہ انکوائری ابھی جاری ہے اور اس کا حتمی نتیجہ سامنے آنا باقی ہے، جس کے بعد ہی معاملے کی حقیقت واضح ہو سکے گی۔اگر آپ چاہیں تو میں اسے ورڈ فائل یا مزید مختصر ٹِکر انداز میں بھی تیار کر سکتا ہوں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے