پنجاب کے ڈی ایچ کیو ہسپتالوں کے لئے سی ٹی سکین مشینوں کی خریداری کا معاملہ لاہور ہائیکورٹ تک کیوں پہنچا ؟

لاہور (پنجاب پوسٹ) پنجاب میں ڈی ایچ کیو ہسپتالوں کے لیے سی ٹی سکین مشینوں کے خریداری کے خلاف درخواست دائر کی گئی۔عدالت نے ایڈیشنل سیکرٹری صحت پنجاب کے بیان کی روشنی میں درخواست نمٹا دی

جسٹس خالد اسحاق نے محمد سلیم اکبر سکھیرا کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار نے پنجاب حکومت،سیکرٹری صحت،پروکیورمنٹ اتھارٹی و دیگر کو فریق بنایا ہے۔سیکرٹری صحت پنجاب عدالت میں پیش ہوئے

یہ بھی پڑھیں: وزیرِ اعظم کا ٹیلی فون ، جماعت اسلامی نے ہتھیار ڈال دیئے؟ لانگ مارچ ملتان ہی میں رک گیا

سیکرٹری صحت کا کہنا تھا کہ خریداری کی جانے والی سی ٹی سکین مشینیں دل کے امراض کے لیے بھی استعمال ہوں گئی۔یہ الزام غلط ہے کہ دل کے امراض کے لیے یہ سی ٹی سکین مشینیں کار آمد نہیں ہیں۔مشینوں کی خریداری سے قبل ان کو ماہرین سے چیک کروا کر خریدی جا رہی ہیں،سیکرٹری صحت

درخواست گزار کے وکیل ہارون دوگل نے درخواست میں موقف اختیار کیا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے 13 اگست کو 24 سی ٹی سکین مشینوں کی خریداری کا اشتہار دیا گیا تھا،مشینوں کی خریداری کے لیے بولی کی تاریخ 17 اگست مقرر کی گئی ہے،مجوزہ CT اسکین مشینیں کارڈیالوجی اور کارڈیک سرجری یونٹس میں استعمال کے لیے بھی مطلوب ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں ٹریفک حادثات،1 ہزار 800 ڈرائیورز کے لائسنس منسوخ، مہلک حادثات میں 32 فیصد کمی کے دعوے

صرف CT اسکینر میں 32 سلائسز کی تعداد کارڈیک صلاحیت ثابت نہیں کرتیں،اسکین مشینوں کی تکنیکی شرائط پنجاب سی ٹی پروکیورمنٹ رولز کے خلاف ہیں،پی سی ون کی منظوری سے تجاوز کرتے ہوئے خریداری کا عمل شروع کیا گیا،

عدالت 17 ستمبر کو سی ٹی سکین مشینوں کی خریداری کے لیے بولی کے عمل کو کلعدم قرار دے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے