لاہور(پنجاب پوسٹ)لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے لاہور پولیس کی کارکردگی اور عدالت میں پیش کی جانے والی رپورٹس پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ یہ معاملہ شہری مومن خان کی 2021 میں دائر کردہ اس درخواست کی سماعت کے دوران سامنے آیا جو سابق سی سی پی او فیاض احمد کے خلاف توہینِ عدالت سے متعلق تھی۔
سماعت میں موجودہ سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ، ڈی آئی جی ایڈمن عمران کشور کے ہمراہ پیش ہوئے، جبکہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل محمد نوید شیخ اور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل وقاص عمر بھی عدالت میں موجود تھے۔
چیف جسٹس نے سی سی پی او سے استفسار کیا کہ عدالت کی طلبی میں کمی سے پولیس کا رویہ اس حد تک متاثر ہوا کہ اگر اس عدالت کے ساتھ یہ سلوک ہے تو باقی عدالتوں میں صورتحال کیا ہوگی۔ انہوں نے پولیس افسران کی جمع کردہ رپورٹس کی خامیوں پر بھی سخت تنقید کی اور ریمارکس دیے کہ ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر افسران کا دماغ کام نہیں کر رہا۔
سی سی پی او نے عدالت کو آگاہ کیا کہ غفلت برتنے والے افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی جاری ہے، ایس پی آپریشن کو ناپسندیدگی کا نوٹس، اے ایس پی سے وضاحت طلبی اور ایس ایچ او کو شوکاز نوٹس جاری کیا جا چکا ہے۔ چیف جسٹس نے اس پر بھی عدم اطمینان ظاہر کیا اور کہا کہ محض کارروائی کا دکھاوا نتیجہ خیز نہیں۔
عدالت نے گزشتہ پانچ برس کے دوران عدالتی احکامات پر پولیس افسران کے خلاف کارروائیوں کا ریکارڈ طلب کرنے کا عندیہ بھی دیا۔ سی سی پی او نے مستقبل میں ایسی صورتحال نہ دہرانے کی یقین دہانی کروائی، جس پر چیف جسٹس نے خبردار کیا کہ دوبارہ ایسا ہوا تو ان کی رپورٹ پر اعتماد نہیں کیا جائے گا۔ عدالت نے درخواست گزار کو طلب کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کر دی۔












