لاہور(پنجاب پوسٹ)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے ناصر ورک کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی، جس میں انہیں اگلے گریڈ میں ترقی نہ دینے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا تھا۔
سماعت کے دوران عدالت نے وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کے بروقت پیش نہ ہونے پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیے کہ "کب بادشاہ سلامت تشریف لا رہے ہیں؟ کیس کیوں انتظار میں رکھا جائے؟”
اس دوران ایک سینیئر افسر نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ فون سننے کے لیے کمرہ عدالت سے باہر گئے ہوئے ہیں۔ جس پر وفاقی حکومت کے وکیل نے استدعا کی کہ وفاقی سیکرٹری آ رہے ہیں، لہٰذا شوکاز نوٹس جاری نہ کیا جائے۔ اس پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے باور کرایا کہ عدالتی کارروائی میں مداخلت نہ کی جائے۔
اس دوران ایک سینیئر افسر نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ فون سننے کے لیے کمرہ عدالت سے باہر گئے ہوئے ہیں۔ جس پر وفاقی حکومت کے وکیل نے استدعا کی کہ وفاقی سیکرٹری آ رہے ہیں، لہٰذا شوکاز نوٹس جاری نہ کیا جائے۔
اس پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے باور کرایا کہ عدالتی کارروائی میں مداخلت نہ کی جائے۔بعدازاں عدالت نے وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے 23 ستمبر تک عمل درآمد رپورٹ طلب کر لی۔












