پنجاب میں ڈے کئیر سینٹرز اب قانون کے دائرے میں لائے جائیں گے ،پنجاب حکومت نے تیاری پکڑ لی

لاہور(پنجاب پوسٹ)کم سن بچوں کے لیے قائم کیے جانے والے ڈے کیئر سینٹرز کو باقاعدہ قانونی دائرے میں لانے کا معاملہ پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ویمن ڈویلپمنٹ کے اجلاس میں زیر بحث آیا۔ سیکرٹری ویمن ڈویلپمنٹ ثمن رائے نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ اس حوالے سے قانونی سازی کے لیے کام شروع کیا جائے گا۔

اجلاس میں چیف وہپ ن لیگ رانا محمد ارشد نے سوال کیا کہ کیا وفاق کی طرح پنجاب میں بھی ڈے کیئر سینٹرز کے حوالے سے کوئی باقاعدہ قانون موجود ہے؟ اس پر سیکرٹری ویمن ڈویلپمنٹ ثمن رائے نے بتایا کہ فی الحال ڈے کیئر سینٹرز وزیراعلیٰ کے انیشیٹو کے تحت قائم کیے جا رہے ہیں۔

رانا محمد ارشد نے سوال کیا کہ کیا محکمہ نے ڈے کیئر سینٹرز کو مستقل قانونی دائرے میں لانے کے حوالے سے کوئی تجویز زیر غور لائی ہے؟ سیکرٹری ویمن ڈویلپمنٹ نے بتایا کہ فی الحال ایسی کوئی تجویز زیر غور نہیں، تاہم کمیٹی کی تجویز پر اس حوالے سے کام کیا جائے گا۔

کمیٹی ارکان نے کہا کہ ڈے کیئر سینٹرز کے لیے باقاعدہ ایکٹ کی موجودگی سے یہ واضح ہو سکے گا کہ کن اداروں کے لیے ڈے کیئر سینٹر قائم کرنا لازم ہوگا اور اس نظام کو قانونی تحفظ بھی حاصل ہوگا۔

رانا محمد ارشد نے کہا کہ حکومت اور وزیراعلیٰ کے ڈے کیئر سینٹرز کے اقدام کو سراہتے ہیں، تاہم قانونی فریم ورک اس منصوبے کو مزید محفوظ اور مؤثر بنائے گا۔ سیکرٹری ثمن رائے نے کمیٹی کی تجویز کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈرافٹ جلد تیار کرکے کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

کمیٹی ارکان نے ہدایت کی کہ معاملے پر پہلی فرصت میں اجلاس کیا جائے، جبکہ سیکرٹری ویمن ڈویلپمنٹ نے یقین دہانی کرائی کہ کمیٹی کی تجویز پر عملدرآمد کرتے ہوئے ایکٹ جلد از جلد تیار کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ثمن رائے نے گزشتہ اجلاس میں بھی کمیٹی کو اس معاملے پر پیش رفت کی یقین دہانی کرائی تھی۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے