لاہور (پنجاب پوسٹ) پنجاب پولیس خدمت مراکز میں سروسز کی نگرانی کے لیے احتساب کا عمل سخت کردیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق انچارج روزانہ ڈیش بورڈ چیک کرے گا اور بیک لاگ صفر پر لانا لازمی ہوگا۔
ذرائع کے مطابق ڈی پی او اور سی پی او ہر 15 دن بعد سٹاک ٹیکنگ کریں گے، جبکہ رپورٹ ہر ماہ کی 1 اور 16 تاریخ کو ریجنل افسران کو جمع کرائی جائے گی۔ سی سی پی او لاہور اور آر پی اوز ہر ماہ مکمل رپورٹ ڈی آئی جی آئی ٹی کو 5 تاریخ تک جمع کرانے کے پابند ہوں گے۔
ڈی آئی جی آئی ٹی ہر ماہ پنجاب بھر کی رپورٹ آئی جی پنجاب کو 10 تاریخ تک پیش کرنے کے پابند ہوں گے۔ ریجنل افسران ہر 3 ماہ بعد ریجن کے خدمت مراکز کا وزٹ کریں گے، جبکہ رپورٹ میں تاخیر پر کارروائی ہوگی۔
ڈی پی او اور سی پی او ہر ماہ کم از کم ایک بار خدمت مراکز کا فزیکل وزٹ کریں گے، جبکہ ڈی آئی جی آپریشنز ہر پندرہ روز بعد سٹاک ٹیکنگ اور رپورٹنگ کے ذمہ دار ہوں گے۔ انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی برانچ کسی بھی وقت سرپرائز انسپکشن کرسکے گی۔
ذرائع کے مطابق ایس او پیز کی خلاف ورزی، بینکنگ میں تاخیر اور جعلی ویری فیکیشن پر فوری محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ غلط اسٹیٹس اپڈیٹ اور فیس میں غبن کو سنگین بدعنوانی قرار دیا جائے گا۔
ویری فیکیشن، ڈیٹا بیس چیکس اور ریٹنگ میں ناکامی پر متعلقہ افسر جوابدہ ہوگا۔ آئی جی پنجاب نے خدمت مراکز پر سروسز کی شفاف فراہمی کے لیے احکامات جاری کردیئے۔












