لاہور(پنجاب پوسٹ)وزیراعلیٰ پنجاب کے احکامات پر صوبے بھر میں خوراک کے معیار کی مسلسل مانیٹرنگ کا سلسلہ جاری ہے، جس کے تحت پنجاب فوڈ اتھارٹی کی سپیشل ٹیموں نے صوبائی دارالحکومت لاہور میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا اور ناقص معیار کی نشاندہی پر دو واٹر پلانٹس بند کر دیے۔
ترجمان فوڈ اتھارٹی کے مطابق کارروائی کے دوران 39 فوڈ پوائنٹس، یونٹس اور سپلائرز کی چیکنگ کی گئی، جن میں سے 24 پوائنٹس کو خلاف ورزیوں پر مجموعی طور پر 3 لاکھ 90 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ ٹیموں نے 45 ہزار کلو مرغیوں اور گوشت کا معائنہ کیا، جس دوران 2200 کلو گرام مردہ گوشت ناقابل استعمال قرار دے کر تلف کر دیا گیا۔
ترجمان نے بتایا کہ بحریہ ٹاؤن اور کالج روڈ پر قائم واٹر پلانٹس کے پانی کے نمونے فیل ہونے پر ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے دونوں پلانٹس سیل کر دیے گئے۔ اس کے علاوہ علی الصبح خصوصی ناکہ بندی کر کے 13 گوشت بردار گاڑیوں کی چیکنگ بھی کی گئی۔
معائنے کے دوران متعدد فوڈ پوائنٹس پر صفائی کے ناقص انتظامات اور حشرات کی بھرمار پائی گئی، جبکہ کئی مقامات پر لازمی ریکارڈ اور ضروری دستاویزات بھی موجود نہیں تھیں۔ ٹیموں کو قوانین کے برخلاف کھلی نالیاں، زنگ آلود مشینری اور گندے فرش بھی نظر آئے۔
ترجمان فوڈ اتھارٹی نے کہا کہ ادارہ معیاری خوراک کی فراہمی اور ملاوٹ مافیا کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے، اور پنجاب میں خوراک کا کاروبار کرنے کے لیے قوانین پر عملدرآمد لازمی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عوام کی صحت کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں اور ان کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں:کچرا اٹھانے کا بہانہ ، خواتین نے شہریوں کو کیسے لگایا لاکھوں کا چونا ، پکڑی کیسے گئیں؟












