لاہور( پنجاب پوسٹ ) ڈپٹی کمشنر لاہور نے علیمۂ خان اور ان کے ڈرائیور محمد امیر کو تھری ایم پی او کے تحت حراست میں لینے کا حکم دے دیا ہے۔
سرکاری حکم نامے کے مطابق علیمۂ خان زوجہ سہیل خان، محمد امیر ولد دوست محمد کو 30 روز کیلئے نظر بند کرتے ہوئے کوٹ لکھپت جیل میں رکھا جائے ۔ ڈی سی لاہور نے پولیس رپورٹ اور ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کی سفارش پر حکم جاری کیا۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی رہنما میاں حماد اظہر سے فیملی اور وکلاء کی ملاقات کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر
پولیس رپورٹ کے مطابق دونوں افراد 9 مئی کے احتجاج/روڈ بلاکس کے دوران موجود تھے۔ پولیس رپورٹ میں دونوں پر کارکنوں کو متحرک کرنے اور سوشل میڈیا کے ذریعے سرگرمیوں کا الزام ہے جبکہ پولیس کے مطابق مبینہ سرگرمیوں سے امن و امان کی صورتحال متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔
مزید پڑھیں : تحریک انصاف کے روپوش رہنما حماد اظہر 3 سال بعد کیسے گرفتار ہوئے ،سہولت کاری کس نے کی؟
ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی نے دونوں افراد کی 30 روزہ نظر بندی کی سفارش کی تھی۔ ڈی سی لاہور کے حکم کے مطابق دونوں افراد کی موجودگی کو عوامی امن و سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیا گیا۔حکم کے خلاف صوبائی حکومت کے سامنے نمائندگی کا حق حاصل ہوگا۔
تھری ایم پی او کیا ہے؟ اس کے تحت گرفتاری کہاں کہاں چیلنج کی جا سکتی ہے؟
مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) 1960 کا قانون ہے۔ جس کے ٹوٹل 28 سیکشنز ہیں۔ اگر کوئی شخص پبلک سیفٹی کی راہ میں حائل ہو یا افراتفری کی صورت صورتحال پیدا کر دےتو اس قانون کے تحت حکومت یعنی ڈپٹی کمشنر کے پاس اختیار ہوتا ہے کہ وہ اسے گرفتار کر لے ۔
’ایم پی او‘ قانون کی سیکشن 3 کے تحت ایسے کسی بھی شخص کو 3 ماہ کے لیے گرفتار کیا جا سکتا ہے اور اگر اس سے زیادہ وقت کے لیے گرفتار کرنا چاہے تو اس پر ہائیکورٹ کے ججز ریویو بورڈ کے تحت اسے 3 ماہ سے زیادہ وقت کے لیے بھی گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کا بھی دورانیہ 6 ماہ سے زیادہ نہیں ہوتا۔
گرفتار شخص ہائی کورٹ میں ڈپٹی کمشنر کے فیصلے کو چیلینج کر سکتا ہے، جس پر ڈپٹی کمشنر اس شخص سے شوئرٹی بانڈ لے کر رہا کر سکتے ہیں۔ ایم پی او کے تحت گرفتار شخص اپنی گرفتاری کو چلینج کر سکتا ہے اور اگر صوبائی سطح پر گرفتار کیا گیا ہے تو وہ صوبائی رویو بورڈ میں چیلینج کر سکتا ہے اور اگر وفاق میں گرفتار کیا جاتا ہے تو وہ فیڈرل ریویو بورڈ میں اپنی گرفتاری کو چلینج کر سکتا ہے۔
آئین کے آرٹیکل 10 میں واضح طور پر گرفتاری اور نظر بندی کو بیان کیا گیا ہے اور نظر بندی میں یہی ہے کہ اگر کسی مصدقہ ذرائع سے معلومات ملیں، تو مجسٹریٹ کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ اسے گرفتار کر لے، یہ قانون صرف سیاستدانوں کے لیے نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیے ہے جو معاشرے میں افراتفری کا سبب بنتا ہو۔












