لاہو( پنجاب پوسٹ) شہر میں رواں سال کے پہلے 8 ماہ کے دوران پولیس کی حراست سے ملزمان کے فرار ہونے کے 10 مقدمات درج ہوئے، جبکہ پولیس افسران و اہلکاروں کی جانب سے اختیارات سے تجاوز، کرپشن اور ناقص کارکردگی پر 40 مقدمات درج کیے گئے، اعداد و شمار سامنے آگئے۔
اعداد و شمار کے مطابق سب انسپکٹر سے کانسٹیبل کے عہدے تک کے 76 افسران و اہلکاروں کے خلاف مقدمات درج ہوئے۔
پولیس حراست سے ملزمان کے فرار کے مقدمات میں صدر ڈویژن 5 ملزمان کے ساتھ سرفہرست رہا، کینٹ ڈویژن 3 ملزمان کے ساتھ دوسرے جبکہ سٹی ڈویژن 2 ملزمان کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔ سول لائنز، ماڈل ٹاؤن اور اقبال ٹاؤن ڈویژن سے کوئی بھی ملزم پولیس حراست سے فرار نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: افغان مہاجرین کا انخلاء ، پنجاب سے اب تک کتنے شہریوں کو کابل بھجوایا جا چکا ہے ؟
پولیس اہلکاروں کے خلاف درج مقدمات میں ماڈل ٹاؤن ڈویژن 9 مقدمات کے ساتھ سرفہرست رہا، صدر ڈویژن 8 مقدمات کے ساتھ دوسرے جبکہ سٹی ڈویژن 7 مقدمات کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔
کینٹ ڈویژن میں پولیس اہلکاروں کے خلاف 6 مقدمات درج ہوئے، سول لائنز اور اقبال ٹاؤن ڈویژن میں 5،5 مقدمات درج کیے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق سٹی، کینٹ اور صدر ڈویژن میں 2،2 سب انسپکٹرز کے خلاف مقدمات درج ہوئے، جبکہ اقبال ٹاؤن اور ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں ایک، ایک سب انسپکٹر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: فیصل آباد میں وزیر اعلیٰ پنجاب ڈویلپمنٹ پیکیج کا 70 فیصد کام مکمل
ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں 6 اے ایس آئیز، سٹی اور صدر ڈویژن میں 5،5 اے ایس آئیز کے خلاف مقدمات درج ہوئے، جبکہ کینٹ اور اقبال ٹاؤن ڈویژن میں 2،2 اے ایس آئیز کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں 12 کانسٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل کے خلاف مقدمات درج ہوئے، صدر ڈویژن میں 9، جبکہ سٹی اور کینٹ ڈویژن میں 7،7 مقدمات درج کیے گئے۔
سول لائنز اور اقبال ٹاؤن ڈویژن میں کانسٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل کے خلاف 6،6 مقدمات درج ہوئے۔









