پاکپتن میں 10 سے 12 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کا معاملہ لاہور ہائیکورٹ کیوں پہنچ گیا ؟

لاہور(پنجاب پوسٹ)لاہور ہائیکورٹ نے لاہور اور پاکپتن میں مبینہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، جبری لوڈ مینجمنٹ اور بار بار بجلی کی ٹرپنگ کے خلاف دائر درخواست پر وفاقی حکومت اور دیگر فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔ جسٹس احمد ندیم ارشد نے ایڈووکیٹ محمد عرفان کی جانب سے وکیل محمد اظہر صدیق کے توسط سے دائر درخواست پر سماعت کی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ لاہور کے مختلف علاقوں میں روزانہ 8 سے 10 گھنٹے جبکہ پاکپتن کے بعض علاقوں میں 10 سے 12 گھنٹے تک بجلی بند کی جارہی ہے۔ طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث پانی کی فراہمی، خوراک، ادویات، انٹرنیٹ، آن لائن تعلیم، کاروباری سرگرمیوں اور طبی سہولیات شدید متاثر ہورہی ہیں۔

درخواست گزار کے مطابق شدید گرمی میں بجلی کی طویل بندش سے بچوں، بزرگوں، مریضوں اور معذور افراد کو بھی مشکلات اور خطرات کا سامنا ہے۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ آئین کے آرٹیکل 4، 9، 14، 18، 19-A اور 25 میں دیے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ بجلی کی بندش کا فیڈر وائز شیڈول، ٹرپنگ، فالٹ اور بحالی کا ریکارڈ طلب کیا جائے، جبکہ طویل لوڈشیڈنگ سے متاثرہ صارفین کے لیے بلوں میں ایڈجسٹمنٹ، ریبیٹ یا دیگر قانونی ریلیف فراہم کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔ درخواست گزار نے غیر اعلانیہ اور امتیازی لوڈشیڈنگ روکنے کے لیے فوری عبوری حکم جاری کرنے کی بھی استدعا کی ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے