لاہور(پنجاب پوسٹ)لاہور ہائیکورٹ نے اراضی انتقالات کے ایک دیوانی تنازع میں محکمہ اینٹی کرپشن کی مبینہ مداخلت کے خلاف درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اینٹی کرپشن کی انکوائری کے خلاف حکمِ امتناعی جاری کر دیا اور محکمہ کو دو شہریوں کے خلاف تادیبی کارروائی سے روک دیا۔
جسٹس خالد ابن عزیز نے شیخوپورہ کے رہائشی نصیب احمد کی درخواست پر سماعت کی، جبکہ درخواست گزاروں کی جانب سے میاں داؤد ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے محکمہ اینٹی کرپشن کو آئندہ سماعت سے قبل تفصیلی جواب جمع کرانے کا حکم بھی دیا۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے 2013 میں فاروق آباد میں 1980 سے چلے آنے والے مالکان سے اراضی خریدی اور رجسٹری، انتقال اور قبضے سمیت تمام قانونی تقاضے مکمل کیے۔ ان کے مطابق بعد ازاں کچھ افراد نے ان کی اراضی سے ملحقہ زمین خریدنے کے بعد مبینہ طور پر قبضے کی نیت سے ان کی زمین کے حوالے سے جعلی رجسٹری تیار کروائی، جس کا علم ہونے پر انہوں نے اسے سول عدالت میں چیلنج کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پاکپتن میں 10 سے 12 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کا معاملہ لاہور ہائیکورٹ کیوں پہنچ گیا ؟
درخواست گزاروں کا مزید کہنا تھا کہ مبینہ قبضہ مافیا کی جانب سے سیاسی سفارش پر محکمہ اینٹی کرپشن میں درخواست دلوائی گئی، جس کے بعد گزشتہ ایک سال سے جاری انکوائری کے ذریعے ایک دیوانی تنازع میں مداخلت کی جا رہی ہے۔
درخواست گزاروں کے مطابق محکمہ مال نے اینٹی کرپشن کی انکوائری میں تمام رپورٹس ان کے حق میں جمع کروائیں، تاہم اس کے باوجود اینٹی کرپشن حکام مبینہ طور پر ایف آئی آر کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ قانون کے تحت محکمہ اینٹی کرپشن کو اراضی انتقالات کے دیوانی تنازعات میں مداخلت کا اختیار نہیں، جبکہ لاہور ہائیکورٹ پہلے بھی ایسے معاملات میں اینٹی کرپشن کے دائرہ اختیار سے متعلق فیصلہ دے چکی ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ انتقالات کے تنازع میں اینٹی کرپشن کی انکوائری کو ماورائے اختیار قرار دے کر کالعدم کیا جائے۔











