بشریٰ بی بی کی دوست فرح گوگی کی کمپنی کو نیب کے نوٹسز، لاہور ہائیکورٹ نے درخواست غیر ضروری کیوں قرار دی ؟

لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ نے سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی دوست فرح گوگی کی کمپنی غوثیہ بلڈرز اور دیگر کی نیب نوٹسز کے خلاف درخواستیں غیر ضروری قرار دیتے ہوئے نمٹا دیں۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے درخواستوں پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران نیب کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کیس انکوائری کے بعد انویسٹی گیشن میں چلا گیا ہے۔ 29 اپریل 2022 کو نیب انکوائری شروع ہوئی، جبکہ درخواست گزار نے نوٹسز کے باوجود انکوائری جوائن نہیں کی۔

درخواست گزار کی جانب سے جونیئر وکیل پیش ہوئے اور مہلت کی استدعا کی، جس پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ’’آپ عدالت سے مذاق نہ کریں، آپ کو کال اپ نوٹس ہوئے ہیں۔‘‘

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 2022 سے درخواست زیر سماعت ہے اور اس دوران کیس نے تفتیش کا مرحلہ بھی طے کر لیا ہے۔ انہوں نے نیب کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار نے اتنے سال گزار دیے، وہ کیس میں جواب دیتے۔

عدالت کے روبرو درخواست گزاروں کے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ پیش نہ ہوئے۔ فرح شہزادی نے نیب کے نوٹسز کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا تھا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ نیب کے نوٹسز حقائق کے منافی ہیں۔ درخواست میں نیب کے نوٹسز کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔

نیب کے مطابق درخواست گزار نے انکوائری میں شامل ہونے کے بجائے عدالت سے رجوع کیا، جبکہ عدالت نے موجودہ صورتحال کے پیش نظر درخواستیں غیر ضروری قرار دیتے ہوئے نمٹا دیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے