لاہور(پنجاب پوسٹ)پاکستان ایکواکلچر اینڈ فشریز کانفرنس 2026 کا انعقاد نجی ہوٹل میں کیا گیا، جس میں فشریز اور ایکواکلچر کے شعبے سے وابستہ ماہرین، سرکاری حکام اور صنعتکاروں نے شرکت کی۔
کانفرنس میں پاکستان میں ایکواکلچر کے فروغ، پائیدار پیداوار، جدید فارمنگ طریقوں اور شرمپ فارمنگ کے ذریعے ملکی برآمدات میں اضافے کے امکانات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ ماہرین نے کہا کہ مچھلی اور جھینگے کی فارمنگ کو جدید خطوط پر استوار کرکے ملکی معیشت کو مضبوط بنانے اور عالمی منڈی میں پاکستان کا حصہ بڑھایا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:احتساب جمہوریت کا ستون ، کرپٹ عناصر کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے ، مریم نواز شریف
کانفرنس کے دوران عالمی ایکواکلچر میں ہونے والی جدت، بین الاقوامی تجارت، سرٹیفکیشن کے تقاضوں، فارمز کے قیام اور بہترین زرعی طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مچھلی کی بہتر پیداوار کے لیے معیاری فیڈ، پانی کے معیار، بیماریوں سے بچاؤ اور بائیوسکیورٹی کو بھی اہم قرار دیا گیا۔
شرکا نے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، اسٹارٹ اپس اور نئے منصوبوں کے ذریعے اس شعبے میں سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بڑھانے پر بھی زور دیا۔ کانفرنس میں جدید ٹیکنالوجی، اسٹارٹ اپس اور مختلف منصوبوں کی نمائش کی گئی، جبکہ ماہرین کی جانب سے ایکواکلچر اور فشریز کے شعبے کی ترقی کے لیے سفارشات بھی پیش کی جائیں گی۔









