لاہور (پنجاب پوسٹ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی لاہور میں ریلی اور سیاسی سرگرمیوں کے دوران شہر کے مختلف تھانوں میں مقدمات درج کر لیے گئے اور کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
اکبری گیٹ کے علاقے
پولیس ذرائع کے مطابق اکبری گیٹ کے علاقے میں سڑک بلاک کر کے نعرے بازی کرنے پر 9 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن کا تعلق راولپنڈی، لورالائی اور کالا شاہ کاکو سمیت مختلف شہروں سے بتایا گیا ہے۔ گرفتار افراد کے خلاف ریاست مخالف اقدام کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے سڑک بلاک کر کے ٹریفک کا بہاؤ متاثر کیا۔

تھانہ قلعہ گجر سنگھ
تھانہ قلعہ گجر سنگھ میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی اور سڑک بلاک کرنے پر 5 کارکنوں کو گرفتار کیا گیا، جبکہ کار سرکار میں مداخلت سمیت پانچ دفعات کے تحت 10 سے 15 کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ پولیس کے مطابق گرفتار کارکنوں نے سڑک بلاک کر کے نعرے بازی کی اور گرفتاری کے دوران ایک کانسٹیبل کی وردی پھاڑ دی۔ ملزمان کے قبضے سے سیاسی جماعت کے جھنڈے اور پوسٹرز بھی برآمد کر لیے گئے۔

اسی دوران تھانہ اکبری گیٹ کے بعد تھانہ شاد باغ میں بھی مقدمہ درج کیا گیا، جو دفعہ 290 اور 291 کے تحت پولیس کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ اس مقدمے میں 2 ملزمان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر لیا گیا، یہ مقدمہ بھی سڑک بلاک کرنے کی دفعات کے تحت درج کیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے صدر اکرم عثمان اور رہنما شبیر گجر کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ تاہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو خود حراست میں نہیں لیا گیا اور وہ پولیس کی گاڑی میں سوار رہے۔ اطلاعات کے مطابق سہیل آفریدی لکشمی چوک پر گاڑی سے اترے۔












