الخدمت ، اکیڈمک اسکالرشپ پروگرام ،3,835طالبات سمیت 7,820 طلبہ کو 68 کروڑ 39 لاکھ 61 ہزار روپے کی سکالرز شپس فراہم کردی گئیں

الخدمت اسکالر شپ پروگرام ، جہاں خواب کی تکمیل ہوتی ہے
WhatsApp Image 2026 09 12 at 4.01.35 PM edited

احمد نبیل نیل

تعلیم ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ تاریخ اور دورِ حاضر میں انسانی حقوق کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کا راستہ تعلیم ہی سے ہو کر گزرتا ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کو بلاامتیاز تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرے، مگر بدقسمتی سے پاکستان میں تعلیم کا یہ بنیادی حق اب بھی لاکھوں بچوں اور نوجوانوں کے لیے ایک خواب کی حیثیت رکھتا ہے۔

کسی کے لیے اسکول تک رسائی ایک مسئلہ ہے، کہیں معیاری تعلیم میسر نہیں اور کہیں تعلیم کے اخراجات خاندان کی استطاعت سے باہر ہیں۔ ایسے بہت سے والدین ہیں جو اپنے بچوں کو پڑھانا چاہتے ہیں، لیکن محدود آمدنی اور بڑھتے ہوئے معاشی مسائل انہیں اپنے بچوں کی تعلیم اور گھر کی بنیادی ضروریات میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔

پاکستان کے تعلیمی منظرنامے کی سنگینی کا اندازہ سرکاری اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن کی Pakistan Education Statistics 2023-24 کے مطابق ملک میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 2 کروڑ 51 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں، جو اس عمر کے بچوں کی مجموعی تعداد کا تقریباً 35 فیصد بنتے ہیں۔

یہ اعداد صرف ایک شماریاتی حقیقت نہیں بلکہ ان لاکھوں بچوں کی نمائندگی کرتے ہیں جو تعلیم حاصل کرنے کی عمر میں ہونے کے باوجود اسکول کی چار دیواری تک نہیں پہنچ پاتے۔

ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں پرائمری تعلیم کی عمر کے تقریباً 80 فیصد بچے ایک سادہ تحریر پڑھ کر اسے سمجھنے سے قاصر ہیں۔ یہ صورتحال ہمارے تعلیمی نظام کے معیار پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں تعلیم کا چیلنج صرف اسکولوں کی تعداد بڑھانے تک محدود نہیں۔ بچوں کو اسکول تک لانا، انہیں تعلیم کے سفر میں برقرار رکھنا اور انہیں معیاری تعلیم فراہم کرنا، تینوں محاذوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

خاص طور پر اعلیٰ تعلیم کے مرحلے پر مالی مشکلات ایک بڑی رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ بہت سے باصلاحیت نوجوان میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے مراحل کامیابی سے مکمل کرنے کے باوجود یونیورسٹی کی فیس، کتابوں، سفری اخراجات اور دیگر تعلیمی ضروریات کا بوجھ برداشت نہیں کر پاتے۔

کچھ نوجوان تعلیم کے ساتھ ملازمت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ بعض بالآخر اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یوں صلاحیت اور محنت موجود ہونے کے باوجود صرف مالی وسائل کی کمی ان کے مستقبل کی راہ روک دیتی ہے۔

ایسے حالات میں اسکالرشپ محض مالی معاونت نہیں بلکہ تعلیم جاری رکھنے کا ایک موقع بن جاتی ہے۔ ایک طالب علم کے لیے فیس کی ادائیگی سے بڑھ کر یہ یقین اہم ہوتا ہے کہ مشکل حالات کے باوجود اس کا تعلیمی سفر جاری رہ سکتا ہے۔

اسی ضرورت کے پیش نظر الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کا اکیڈمک اسکالرشپ پروگرام مستحق اور ہونہار طلبہ کو اعلیٰ تعلیم جاری رکھنے میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔

پروگرام کے تحت ہر سال یکم اگست سے 31 اکتوبر تک آن لائن رجسٹریشن جاری رہتی ہے۔ طلبہ آن لائن درخواست جمع کروانے کے مراحل مکمل کرکے گھر بیٹھے اسکالرشپ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

یہ سہولت ان طلبہ کے لیے خاص طور پر اہم ہے جو مالی مشکلات کے ساتھ ساتھ دور دراز علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ہر مرحلے پر اضافی اخراجات برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے۔

الخدمت فاؤنڈیشن کے مطابق اب تک اکیڈمک اسکالرشپ پروگرام کے تحت 7,820 طلبہ مستفید ہو چکے ہیں، جن میں 3,985 مرد اور 3,835 خواتین شامل ہیں۔

ان طلبہ کے لیے اب تک 68 کروڑ 39 لاکھ 61 ہزار روپے کی مالی معاونت فراہم کی جا چکی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ سلسلہ ماضی تک محدود نہیں بلکہ اس وقت بھی 1,570 طلبہ اس پروگرام کے تحت اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اسکالرشپ حاصل کرنے والوں میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ شامل ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ان میں 1,997 میڈیکل، 623 انجینئرنگ، 4,388 بی ایس آنرز اور 812 آئی ٹی کے طلبہ شامل ہیں۔

یہ تعداد اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مالی مشکلات کے باوجود باصلاحیت نوجوان مختلف شعبوں میں آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، انہیں صرف ایک موقع اور مناسب سہارا درکار ہوتا ہے۔

پروگرام کے تحت اسکول اور کالج کی سطح پر میٹرک اور انٹرمیڈیٹ میں کم از کم 75 فیصد نمبروں کا میرٹ مقرر ہے۔

یونیورسٹی سطح پر پہلے سے زیرِ تعلیم طلبہ اپنے سالِ دوم کی تکمیل سے قبل اسکالرشپ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ منتخب طلبہ کو ڈگری کی تکمیل تک طے شدہ مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے تاکہ مالی مشکلات ان کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔

اس اسکالرشپ کے اثرات کو سمجھنے کے لیے اس سے مستفید ہونے والی طالبہ امامہ شاہد کی مثال سامنے رکھی جا سکتی ہے۔

امامہ نے سائیکالوجی میں گریجویشن مکمل کی اور آج ایک بڑے ادارے میں بطور سائیکولوجسٹ خدمات انجام دے رہی ہیں۔ تاہم ان کے تعلیمی سفر میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب ان کی ڈگری مکمل ہونا مشکل دکھائی دینے لگا تھا۔

امامہ کے مطابق 2020ء میں یونیورسٹی میں داخلے کے بعد کورونا وبا کے باعث ان کے والد کی ملازمت ختم ہوگئی۔ دو سمسٹرز مکمل کرنے کے بعد ان کے لیے تعلیم جاری رکھنا مشکل ہوگیا اور انہیں اپنی ڈگری ادھوری چھوڑنے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

اسی دوران انہیں الخدمت اکیڈمک اسکالرشپ کے بارے میں معلوم ہوا۔ انہوں نے اور ان کے بھائی نے درخواست دی اور دونوں اسکالرشپ کے لیے منتخب ہوگئے۔

اس مالی معاونت نے امامہ اور ان کے بھائی کو اپنی تعلیم جاری رکھنے میں مدد دی اور بالآخر دونوں اپنی ڈگریاں مکمل کرنے میں کامیاب ہوئے۔کوشش کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے.

WhatsApp Image 2026 09 12 at 3.27.59 PM

"انسان کو زندگی میں کبھی کوشش نہیں چھوڑنی چاہیے۔ میں نے بھی کوشش نہیں چھوڑی اور اللہ نے الخدمت کی اسکالرشپ کو میری مدد کا ذریعہ بنا دیا۔”

ان کے الفاظ صرف ایک طالبہ کی کامیابی کی داستان نہیں بلکہ ان ہزاروں نوجوانوں کے لیے امید کا پیغام ہیں جو وسائل کی کمی کے باوجود آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

ایک اسکالرشپ، ایک پورا مستقبل

امامہ کی کہانی دراصل ان ہزاروں نوجوانوں کی نمائندگی کرتی ہے جن کے پاس صلاحیت، محنت اور آگے بڑھنے کا جذبہ تو ہوتا ہے، مگر وسائل محدود ہوتے ہیں۔

ایسے میں ایک اسکالرشپ کسی طالب علم کے لیے صرف فیس کی ادائیگی نہیں ہوتی بلکہ اسے اپنے خواب کو جاری رکھنے کا موقع دیتی ہے۔ یہی موقع آگے چل کر ایک طالب علم کو اپنے خاندان اور معاشرے کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکتا ہے۔

کامیابی صرف رقم سے نہیں ناپی جاتی

میرے خیال میں کسی بھی اسکالرشپ پروگرام کی اصل کامیابی صرف اس بات سے نہیں ناپی جانی چاہیے کہ کتنی رقم خرچ ہوئی یا کتنے طلبہ کو معاونت فراہم کی گئی۔

اصل کامیابی یہ ہے کہ اس معاونت کے نتیجے میں کتنے نوجوان اپنی تعلیم مکمل کرکے عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں، اپنے خاندان کا سہارا بنتے ہیں اور معاشرے کے لیے مثبت کردار ادا کرتے ہیں۔

تعلیم کے لیے اجتماعی کوشش ضروری

پاکستان کو ایسے ہی مواقع کی ضرورت ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں کروڑوں بچے اب بھی اسکول سے باہر ہیں، وہاں تعلیم تک رسائی پیدا کرنا صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے کے ہر صاحبِ استطاعت فرد، ادارے اور فلاحی تنظیم کی مشترکہ ذمہ داری بھی ہے۔

اگر حکومت، نجی ادارے، فلاحی تنظیمیں اور صاحبِ استطاعت افراد مل کر تعلیمی مواقع پیدا کریں تو بہت سے ایسے نوجوانوں کو آگے بڑھنے کا موقع مل سکتا ہے جو صرف مالی مشکلات کی وجہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔

خواب نہیں، حق

تعلیم کسی بچے کے لیے خواب نہیں بلکہ حق ہونی چاہیے۔ جب کسی مستحق طالب علم کو تعلیم جاری رکھنے کا موقع دیا جاتا ہے تو دراصل صرف ایک طالب علم کی مدد نہیں ہوتی بلکہ اس کے ایک خواب کو حقیقت کا راستہ ملتا ہے اور ایک پورے مستقبل کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تعلیم کو صرف ایک فرد کی کامیابی کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ اسے پورے معاشرے کی ترقی سے جوڑیں۔ ایک تعلیم یافتہ نوجوان صرف اپنا مستقبل نہیں سنوارتا بلکہ اپنے خاندان، معاشرے اور ملک کے لیے بھی نئے امکانات پیدا کرتا ہے۔

اگر آپ بھی کسی طالب علم کے خواب کو تعبیر تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیں تو الخدمت فاؤنڈیشن کا ساتھ دے کر مستحق طلبہ و طالبات کے تعلیمی سفر میں معاون بن سکتے ہیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے