صوبوں کی تقسیم کے معاملے کو جان بوجھ کر ہوا دی گئی ، معاملہ پارلیمنٹ میں ڈسکس کیا جائے گا ، رانا ثنا اللہ

لاہور (پنجاب پوسٹ)رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی نے صوبے کے معاملے پر اوور ری ایکٹ کیا، نئے صوبوں کی بحث چل رہی ہے، تاہم نئے صوبوں کی بحث مناسب اور صحیح جگہ سے شروع نہیں ہوئی تھی۔ نئے صوبوں کا فیصلہ پارلیمنٹ نے کرنا ہے اور آئندہ دنوں میں نئے صوبوں پر پارلیمنٹ میں بحث ہوسکتی ہے۔ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے درمیان اختلافات کو حل کرلیں گے، جبکہ ن لیگ کے مؤقف پر مشاورت جاری ہے۔

پیپلزپارٹی کے ساتھ ہونے والی میٹنگ کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اجلاس میں دونوں جماعتوں کے سینئر لوگ موجود تھے، جبکہ آپس میں جو انڈر اسٹینڈنگ ہوئی تھی اس پر بھی بات چیت ہوئی۔ ویسے تو ہر ماہ اس پر میٹنگ ہونی چاہیے، تاہم دو تین ماہ بعد میٹنگ ہوئی ہے۔ اجلاس میں ان فارمل گپ شپ بھی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے درمیان آزاد کشمیر الیکشن میں جو تلخیاں پیدا ہوئی تھیں، ان میں کافی کمی آئی ہے۔ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے درمیان جو چیزیں پائی جارہی ہیں، ان پر بہتر انداز میں حل نکالا جائے گا۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وزیر داخلہ کی تقاریر، بیانات اور فورمز پر بات کرنے سے کوئی بہتری نہیں آئی، یہ بات پارلیمنٹ میں ہی ہونی چاہیے تھی۔ جب یہ بحث پارلیمنٹ میں آئے گی تو تمام پارٹیاں اپنا موقف بیان کریں گی۔

نئے صوبوں کے حوالے سے ن لیگ کے موقف پر بات چیت جاری ہے۔ ن لیگ بحث میں حصہ بھی لے گی اور وزیراعظم پاکستان اس پر بات کریں گے۔ ن لیگ کی وفاق اور پنجاب میں حکومت ہے، تاہم اقتصادی فورم پر اس حوالے سے بات نہیں ہونی چاہیے تھی۔

انہوں نے کہا کہ صوبے بننے یا نہ بننے کا فیصلہ پارلیمنٹ نے کرنا ہے۔ جب کہا گیا کہ میں رہوں یا نہ رہوں صوبے بنیں گے، پھر کہا گیا کہ عوام اگر چاہیں گے تو صوبے بنیں گے۔ وفاقی وزیر نے کابینہ اور پارلیمنٹ میں ابھی تک کوئی بات نہیں کی، جبکہ کابینہ کے اجلاس میں بھی کسی وزیر نے یہ بات نہیں کی۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ صوبوں کی تقسیم کے معاملے کو جان بوجھ کر ہوا دی گئی، تاہم معاملہ پارلیمنٹ میں ڈسکس کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ آج مسلم لیگ ن پنجاب کا اجلاس بلایا گیا ہے، جس میں غیر متحرک عہدیداروں اور خالی سیٹوں کو پُر کیا جائے گا، اس عمل کو اگلے 30 دن میں مکمل کیا جائے گا۔

رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت کا بلدیاتی انتخابات کروانے کا ارادہ ہے، جبکہ نئے صوبوں کی بحث نئی جگہ سے شروع نہیں ہوئی تھی، لیکن پارلیمنٹ میں اس پر بحث ہوگی۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے