اسلام آباد (پنجاب پوسٹ) سپریم کورٹ نے دودھ میں ملاوٹ اور کار سرکار میں مداخلت کے ملزم غلام نبی کی ضمانت مسترد کردی۔
سرکاری وکیل نے کہا کہ ملزم نےساتھی ملزمان کے ساتھ مل کر فوڈ اتھارٹی کے ملازمین پر حملہ کیا، ملزمان کے قبضے سے پستول بھی برآمد ہوا۔
جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا فوڈ اتھارٹی بغیر وارنٹ کسی کی حدود میں داخل ہو سکتی ہے؟ کیا کسی کی حدود میں داخل ہونےکے لیے فوڈ اتھارٹی بااختیار ہے؟
یہ بھی پڑھیں: حافظ آباد ،معروف سجی پوائنٹ سیل،شہریوں کو کیا کھلایا جارہا تھا ؟
سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ ہمارے پاس جعلی دودھ کی پکی خبر تھی۔ جسٹس مندوخیل نے سوال کیا کیا اطلاع کے بعد کسی کی حدود میں داخل ہونےکی اجازت مل جاتی ہے؟
ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ سارے الزامات جھوٹے ہیں، 8 ملزمان کی ضمانت ہو چکی ہے، ملزم کا دودھ کا کاروبار تو ہے، چھ ماہ سے جیل میں ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا معاشرہ اتنا خراب ہو چکا ہےکہ ہم بھی پریشان ہیں کیاکریں۔
جسٹس ملک شہزاد کا کہنا تھا کہ ملزم نے ایسا کام کیا ہے کہ اسے 10 بار اور اندر ڈالنا چاہیے، سرکاری ملازمین کے ساتھ ایسے رویے ہوں گے توکام کیسے چلےگا؟










