صادق آباد (پنجاب پوسٹ) نادرا ریکارڈ میں فوت شدہ شہری خود کو زندہ ثابت کرنے کے لیے پریشان ہو گیا۔ لاکڑ والی پانچ چک کے رہائشی فلک شیر اپنے بچوں کا ب فارم بنوانے نادرا دفتر پہنچے تو ریکارڈ میں خود کو فوت شدہ پایا۔
شہری فلک شیر خود کو ریکارڈ میں فوت شدہ دیکھ کر ششدر رہ گئے۔ نادرا حکام نے شہری کو جواب دیا کہ پہلے اپنے زندہ ہونے کا ثبوت لائیں، اس کے بعد بچوں کے ب فارم بنائے جائیں گے۔
فلک شیر یونین کونسل پہنچے تو وہاں بھی ریکارڈ میں خود کو مردہ پایا۔ شہری کا کہنا ہے کہ دفاتر کے چکر لگا لگا کر تھک چکا ہوں، سمجھ نہیں آ رہی کہ خود کو کیسے زندہ ثابت کروں۔
نادرا حکام کے مطابق شہری فلک شیر اپنی پہلی بیوی کو طلاق دے چکے ہیں۔ خاتون نے سندھ جا کر اپنے خاوند کا جعلی ڈیتھ سرٹیفکیٹ دے کر یونین کونسل میں ان کی وفات کا اندراج کرایا۔
نادرا حکام کا کہنا ہے کہ اموات اور پیدائش کا اندراج یونین کونسلز کرتی ہیں، جبکہ شہری فلک شیر اپنی زندگی کا ثبوت دینے کے لیے مختلف دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔










