لاہور (پنجاب پوسٹ) چوبرجی میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ذیلی شعبے پاک لائرز فورم کے زیرِ اہتمام نئے انتظامی یونٹس کے قیام، آئینی و قانونی پہلوؤں اور عوامی مسائل کے حل کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار کی صدارت چیئرمین پاک لائرز فورم رانا عبدالحفیظ نے کی۔
میں منعقدہ سیمینار میں جنرل سیکرٹری پاکستان مرکزی مسلم لیگ لاہور چوہدری حمید الحسن گجر، صدر مسلم یوتھ لیگ پاکستان تابش قیوم، صدر پاک لائرز فورم لاہور احسن ورک، صاحبزادہ عامر حبیب سمیت دیگر وکلاء اور سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی۔
مقررین نے نئے انتظامی یونٹس کے قیام، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور عوامی مسائل کے مؤثر حل کے حوالے سے اظہارِ خیال کیا چیئرمین پاک لائرز فورم رانا عبدالحفیظ نے کہا کہ ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی باتیں ہو رہی ہیں، اسی تناظر میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ پاک لائرز فورم کی جانب سے ڈائیلاگ کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔
آئندہ دنوں میں نئے انتظامی یونٹس کے حوالے سے مشاورت کے اس سلسلے کو مزید وسیع کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ ملک میں غربت اور مہنگائی نے عوام کا جینا محال کر رکھا ہے، جبکہ ہمارا ملک اس وقت اشرافیہ کے قبضے میں ہے۔ کئی سالوں سے لوکل گورنمنٹ کے انتخابات نہیں کروائے جا سکے، جس کے باعث اختیارات اور وسائل عوام کی دہلیز تک منتقل نہیں ہو سکے۔
رانا عبدالحفیظ کا کہنا تھا کہ عوامی ترقی کے حوالے سے پاکستان دنیا میں بہت پیچھے رہ چکا ہے، لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے نظام میں مؤثر اصلاحات ناگزیر ہیں۔ پاکستان ایک اسلامی فلاحی ریاست کے تصور کے تحت قائم ہوا، جبکہ اسلام انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کے حقوق کی بھی بات کرتا ہے، اس لیے عوام کی فلاح ریاست کی بنیادی ترجیح ہونی چاہیے۔
صدر مسلم یوتھ لیگ پاکستان تابش قیوم نے کہا کہ لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے نیا نظام ضروری ہے۔ نئے انتظامی یونٹس یا نئے صوبے بنانے سے اگر عوام کو ان کے حقوق، بہتر سہولیات اور مؤثر حکمرانی مل سکتی ہے تو ایسے یونٹس ضرور بننے چاہئیں تابش قیوم نے کہا کہ عوام کی بہتری کے لیے آئینی طریقے سے ہر وہ اقدام اٹھانا ہوگا جو ناگزیر ہے۔ اختیارات کو عوام کے قریب لائے بغیر حقیقی ترقی اور گورننس کے مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔










