لاہور (پنجاب پوسٹ) جشن بسنت کی تیاریوں کے سلسلے میں پتنگ سازی کا آغاز ہوگیا، چیئرمین ڈسٹرکٹ کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن خواجہ ندیم وائیں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت پنجاب کا شکریہ ادا کیا کہ وعدے کے مطابق پتنگ سازی کے لیے پورٹل کھول دیا گیا اور لوگوں کو لائسنس جاری کرنے کا عمل بھی شروع کردیا گیا ہے۔
خواجہ ندیم وائیں نے کہا کہ اس بار پالیسی میں ایک نئی شق شامل کی گئی ہے جس کے تحت روزانہ جتنا اسٹاک تیار ہوگا، اسے پورٹل پر اپ لوڈ کرنا ہوگا۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اس شق کو ختم کیا جائے، کیونکہ جتنا بھی اسٹاک تیار ہوگا وہ لاہور میں ہی رہنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاہور میں سارا سال پتنگیں اور ڈور بنتی رہی ہیں، اس کے باوجود پتنگیں اور ڈور کم پڑ جاتی تھیں۔ کاریگر پورٹل پر روزانہ اسٹاک کیسے اپ لوڈ کرے گا، اسے آئی ٹی کا کچھ پتہ ہی نہیں ہوتا۔ پچھلے سال کی طرح اس سال بھی ایس او پیز کے مطابق ڈور اور پتنگیں تیار کی جائیں گی۔
خواجہ ندیم وائیں کا کہنا تھا کہ اس شق کی وجہ سے پولیس گھروں میں داخل ہوسکتی ہے اور چادر چار دیواری کی خلاف ورزی کا خدشہ ہے۔ ہم نے اپنے اعتراضات ضلعی انتظامیہ کو بتائے، حکومت نے ہماری بات بھی مانی، تاہم یہ شق ابھی زبانی طور پر چل رہی ہے اور اس حوالے سے تحریری طور پر آگاہ نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بسنت 6 ماہ پہلے تیاریاں شروع، وزیر اعلیٰ نے اہم ہدایات جاری کردیں
چیئرمین ڈسٹرکٹ کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن نے کہا کہ مینوفیکچررز اور ٹریڈنگ کی الگ الگ کیٹیگری رکھی گئی ہے، پتنگوں اور ڈور کی فروخت حکومتی اجازت سے مشروط ہے۔ جو مینوفیکچررز ہیں ان کے لیے اسٹاک اپ لوڈ کرنے کی شرط نہیں ہونی چاہیے، حکومت اگر چیک اینڈ بیلنس رکھنا چاہتی ہے تو ٹریڈرز پر رکھے۔
خواجہ ندیم وائیں نے کہا کہ کاریگر نے صرف پتنگیں اور ڈور تیار کرنی ہیں، بیچنی تھوڑی ہے۔ جن ایس او پیز کے مطابق گزشتہ سال بسنت ہوئی، انہی ایس او پیز کے مطابق اس سال بھی بسنت کی اجازت ہونی چاہیے۔ گزشتہ سال بسنت کے شاندار انعقاد پر دنیا بھر میں پاکستان کی عزت اور تعریف ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ بیرون ملک سے لوگ بسنت کے موقع پر انویسٹرز کے طور پر آرہے ہیں، لائسنس ملنے کے بعد جتنا زیادہ مال تیار ہوگا، ڈور اور پتنگوں کے ریٹ کم ہوں گے۔
خواجہ ندیم وائیں نے مطالبہ کیا کہ دھاگہ بنانے والی تمام کمپنیوں کو رجسٹرڈ کیا جائے اور حکومت کو دھاگہ بنانے والی کمپنیوں کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ حکومت کو پیپر اور بانس منگوانے کی اجازت بھی دینی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ گڈا 500 روپے سے مہنگا نہیں ہونا چاہیے، جبکہ 2 پیس ڈور کے پنہ پر 4500 روپے اخراجات آرہے ہیں اور سیزن میں 2 پیس ڈور کا پنہ 6000 روپے تک ہونا چاہیے۔ ڈیڑھ تاوا گڈا 275 روپے کا ہے، اسے 400 روپے تک فروخت ہونا چاہیے۔
صدر ڈسٹرکٹ کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن شیخ محمد سلیم نے کہا کہ نئی پالیسی سے سرمایہ دار کے ہاتھ بات چلی جائے گی، حکومت اس پالیسی کے ذریعے خود مہنگی ڈور اور پتنگوں کا جواز پیدا کر رہی ہے۔
شیخ محمد سلیم کا کہنا تھا کہ روزانہ تیار ہونے والے اسٹاک کو پورٹل پر اپ لوڈ کرنے کی شق پہلی بار سننے میں آئی ہے، اسے ختم ہونا چاہیے۔ فروخت کرنے کی جب اجازت ہوگی تو پتنگیں اور ڈور اسی وقت فروخت ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ اس شق سے غریب کاریگر متاثر ہوگا، اس لیے اس شق کو پالیسی میں بالکل شامل نہیں کیا جانا چاہیے۔










