لاہور (پنجاب پوسٹ) پنجاب بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے جامع چائلڈ پروٹیکشن پالیسی منظور کرنے والا پہلا صوبہ بن گیا، محکمہ داخلہ پنجاب میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (UNICEF) اسلام آباد کے وفد نے ایڈیشنل سیکرٹری فارن نیشنل سکیورٹی عائشہ ممتاز سے ملاقات کی، جس میں امن و امان کی صورتحال اور بچوں کے تحفظ کے حوالے سے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں یونیسف وفد کے سداحمد عبداللہ اور محمد خالد عرفان سمیت ڈپٹی سیکرٹری محمد مرتضیٰ، ڈپٹی سیکرٹری جمال فضیل اور محمد اسد اللہ گوندل نے شرکت کی۔
ایڈیشنل سیکرٹری فارن نیشنل سکیورٹی عائشہ ممتاز نے کہا کہ خواتین اور بچوں کا تحفظ وزیراعلیٰ پنجاب کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ پنجاب بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے جامع چائلڈ پروٹیکشن پالیسی منظور کرنے والا پہلا صوبہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بچوں کو محفوظ شیلٹر، خوراک، تعلیم اور صحت کی سہولیات کے ساتھ نفسیاتی اور قانونی امداد بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ بچوں کو محفوظ بنانا اور ان کا استحصال کرنے والوں کو قانون کے شکنجے میں لانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
یونیسف وفد نے پنجاب حکومت کی جانب سے بچوں کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا۔ وفد نے محکمہ داخلہ کے ڈیجیٹل میڈیا اینڈ پبلک آؤٹ ریچ سیل کا بھی دورہ کیا، جہاں ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز توصیف صبیح گوندل نے بچوں کے تحفظ کے لیے بنائی گئی "حیاء اور بہادر” کارٹون سیریز کے حوالے سے بریفنگ دی۔
محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے کم سن بچوں کے ساتھ جنسی بدسلوکی کے واقعات کی روک تھام کے لیے "گڈ ٹچ، بیڈ ٹچ” آگاہی مہم بھی چلائی جا رہی ہے۔ اینیمیشن سیریز کے ذریعے حیاء اور بہادر بچوں کو مناسب اور نامناسب جسمانی رویے کے بارے میں آگاہی دے رہے ہیں۔
کارٹون سیریز میں بچوں کو سکھایا جا رہا ہے کہ وہ نامناسب جسمانی رویے کو پہچانیں اور ایسے کسی بھی رویے کی اطلاع اپنے والدین کو دیں۔ محکمہ داخلہ کے مطابق درست تعلیم اور آگاہی کے بعد بچے نامناسب رویے کو پہچان کر اسے رپورٹ کرسکتے ہیں۔
محکمہ داخلہ نے والدین اور اساتذہ پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کو گھر یا باہر جنسی استحصال کی صورت میں اسے رپورٹ کرنے کے طریقہ کار سے آگاہ کریں۔ محکمہ داخلہ کے مطابق آگاہی مہم بچوں کو بدسلوکی اور جنسی استحصال سے محفوظ رکھنے میں معاون ثابت ہوگی۔
"گڈ ٹچ، بیڈ ٹچ” سے متعلق آگاہی کو ابتدائی کلاسز کے نصاب میں بھی شامل کیا جا رہا ہے، تاکہ بچوں کو کم عمری سے ہی مناسب اور نامناسب جسمانی رویے کی پہچان اور اپنی حفاظت کے حوالے سے بنیادی آگاہی دی جاسکے۔











