کیا سسٹم واقعی ناکام ہوچکا ہے ؟ پنجاب میں کرپشن ،پٹواری ، پولیس اہلکار ، ڈاکٹرز کے بعد اب جیلرز بھی پکڑ میں آنے لگے

لاہور(پنجاب پوسٹ)پنجاب جیل خانہ جات میں کرپشن، بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا، انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی سیل نے بدعنوان افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائیاں تیز کرتے ہوئے متعدد افسران اور اہلکاروں کو معطل کر دیا۔

آئی جی جیل پنجاب میاں سالک جلال کے مطابق معطل کیے جانے والوں میں 2 سپرنٹنڈنٹس، ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ، 2 اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس، 2 سٹور کیپرز اور 9 وارڈرز شامل ہیں۔ جیل خانہ جات میں کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے معاملات پر انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی سیل کے ذریعے کارروائیوں کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔

آئی جی جیل پنجاب میاں سالک جلال کا کہنا ہے کہ قیدیوں کے حقوق کی خلاف ورزی پر سخت ایکشن کا آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ کرپشن میں ملوث اہلکاروں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ ہے۔ جیلوں میں بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔

میاں سالک جلال کے مطابق پنجاب بھر کی جیلوں میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں اور شہریوں و قیدیوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات پر فوری کارروائی کا حکم دیا گیا ہے۔ جیل انتظامیہ میں احتساب کے عمل کو مزید سخت کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی اہلکار کو اختیارات کے غلط استعمال کا موقع نہ مل سکے۔

آئی جی جیل خانہ جات نے اختیارات کے ناجائز استعمال میں ملوث اہلکاروں کو سخت سزاؤں کی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ بدعنوانی کے خاتمے کے لیے انٹرنل مانیٹرنگ سسٹم فعال کر دیا گیا ہے۔ جیلوں میں جاری معاملات کی نگرانی اور شکایات پر کارروائی کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔

میاں سالک جلال کا کہنا ہے کہ جیل سسٹم میں اصلاحات کے لیے اہم پیش رفت جاری ہے، جبکہ عوامی اعتماد بحال کرنے اور پنجاب بھر کی جیلوں میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے بڑے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے