لاہور(پنجاب پوسٹ)سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب کی زیر قیادت محکمہ تحفظ جنگلی حیات و پارکس پنجاب نے صوبہ بھر میں جنگلی حیات کے غیرقانونی شکار، اسمگلنگ اور کاروبار کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیز کردیا۔
محکمہ جنگلی حیات کے مطابق مختلف کارروائیوں کے دوران 15 ملزمان کو گرفتار، 26 طوطے اور 13 نیٹنگ گیئرز برآمد کیے گئے۔ گرفتار ملزمان میں سے 14 کو مجموعی طور پر 4 لاکھ 50 ہزار روپے محکمانہ معاوضہ کی مد میں جرمانہ کیا گیا جبکہ ایک ملزم کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے قانونی کارروائی شروع کردی گئی۔
بہاولنگر میں وائلڈلائف رینجرز نے منچن آباد سے ملتان اسمگل کی جانے والی طوطوں کی بڑی کھیپ پکڑ لی۔ کارروائی کے دوران 6 را طوطے اور 20 گانی دار طوطے قبضے میں لیے گئے جبکہ طوطوں کی غیرقانونی نقل و حمل میں معاونت پر بس کنڈکٹر کو گرفتار کرکے قانونی کارروائی شروع کردی گئی۔
تحصیل رائیونڈ میں جنگلی کبوتر کے غیرقانونی شکار پر ایک ملزم کو گرفتار کرکے 55 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
ملتان ریجن میں بٹیر کی غیرقانونی نیٹنگ کے خلاف کارروائیوں کے دوران 3 نیٹنگ گیئرز ضبط اور 2 ملزمان گرفتار کیے گئے، جن میں سے ایک کو 60 ہزار روپے جرمانہ کیا گیا۔ ضلع خانیوال میں بٹیر کے 2 نیٹنگ گیئرز ضبط کرکے ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا اور اس پر 45 ہزار روپے جرمانہ عائد ہوا، جبکہ وہاڑی میں بٹیر کا ایک نیٹنگ گیئر ضبط کرکے قانونی کارروائی شروع کردی گئی۔
محکمہ جنگلی حیات کے مطابق مرغابی کے غیرقانونی شکار کی سوشل میڈیا پر تشہیر کرنے والے ملزم کو بھی گرفتار کرکے مقامی تھانے میں ایف آئی آر درج کرادی گئی۔
نارووال میں مور کو غیرقانونی طور پر قبضے میں رکھنے والے شخص کو گرفتار کرکے 30 ہزار روپے جرمانہ کیا گیا۔ راولپنڈی میں الیکٹرانک کالنگ ڈیوائس کے ذریعے بٹیر کی غیرقانونی نیٹنگ کرنے والے ملزم کو گرفتار کرکے 30 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا، جبکہ بٹیر کے دو غیرقانونی شکاریوں کو گرفتار کرکے 45 ہزار روپے جرمانہ اور ہنٹنگ گیئرز ضبط کیے گئے۔
راجن پور میں بٹیر کی غیرقانونی تجارت میں ملوث ملزم کو گرفتار کرکے 50 ہزار روپے جرمانہ کیا گیا۔ بھکر میں بٹیر کی غیرقانونی نیٹنگ میں ملوث 6 افراد کو گرفتار کرکے مجموعی طور پر 1 لاکھ 35 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا، 6 نیٹنگ گیئرز ضبط اور جال تلف کردیئے گئے۔
میانوالی میں بٹیر کی غیرقانونی نیٹنگ کے 4 گیئرز ضبط کرکے قانونی کارروائی شروع کردی گئی۔
محکمہ تحفظ جنگلی حیات و پارکس پنجاب کا کہنا ہے کہ جنگلی حیات کے تحفظ اور غیرقانونی شکار و تجارت کی روک تھام کے لیے صوبہ بھر میں کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔










