لاہور(پنجاب پوسٹ)پنجاب کے ن لیگی ارکان اسمبلی نے اپنے حلقوں میں عوامی مسائل کے حل اور انتظامی امور میں پیش آنے والی مشکلات پر سابق وزیراعظم نواز شریف سے شکوہ کیا ہے، جس پر نواز شریف نے ارکان اسمبلی کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے فوری رابطہ کیا اور مسائل کے ازالے کی ہدایت کردی۔
ذرائع کے مطابق ن لیگی ارکان اسمبلی نے نواز شریف سے ملاقات کے دوران حلقوں میں انتظامی افسران کے عدم تعاون کی شکایات کیں۔ ارکان اسمبلی کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے حلقوں میں عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی کاموں کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ انتظامی افسران کی جانب سے مطلوبہ تعاون نہیں کیا جا رہا۔
ارکان اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ حلقوں میں جاری ترقیاتی کاموں کو تیز کیا جائے اور عوام کو درپیش مسائل کے فوری حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ ارکان اسمبلی نے نواز شریف کو اپنے اپنے حلقوں کی صورتحال اور عوامی شکایات سے بھی آگاہ کیا۔
ذرائع کے مطابق نواز شریف نے ارکان اسمبلی کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے مریم نواز کو مسائل فوری حل کرنے کی ہدایت کی۔ نواز شریف نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے منتخب نمائندے زیادہ سے زیادہ کردار ادا کریں اور اپنے حلقوں میں عوام کو درپیش مشکلات کے ازالے کے لیے فعال کردار ادا کریں۔
نواز شریف کی ہدایت پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پنجاب بھر کے ن لیگی ارکان اسمبلی سے رابطے اور ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ مریم نواز کی جانب سے مرحلہ وار مختلف ڈویژنز کے منتخب نمائندوں سے ملاقاتیں کی جا رہی ہیں، جن میں حلقوں کے ترقیاتی کاموں، انتظامی امور اور عوامی مسائل پر تفصیلی بات چیت کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق لندن روانگی سے قبل مریم نواز نے سرگودھا ڈویژن اور ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے منتخب نمائندوں سے اہم ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں کے دوران ارکان اسمبلی نے اپنے حلقوں کے مسائل، ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی معاملات سے وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم نواز کی وطن واپسی پر پنجاب بھر کے تمام ڈویژنز کے ارکان اسمبلی سے مرحلہ وار ملاقاتیں ہوں گی۔ ان ملاقاتوں میں ارکان اسمبلی کے حلقوں سے متعلق مسائل کا جائزہ لیا جائے گا اور عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے اقدامات پر غور کیا جائے گا۔
نواز شریف کی ہدایت پر مریم نواز نے ارکان اسمبلی سے رابطہ مزید بڑھانے کا فیصلہ بھی کیا ہے، تاکہ منتخب نمائندوں کو اپنے حلقوں میں درپیش مسائل کے حل کے لیے مؤثر حکومتی تعاون فراہم کیا جا سکے۔










