لاہور (پنجاب پوسٹ) انسداد دہشت گردی عدالت نے جناح ہاؤس حملہ کیس میں تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر کو 21 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت میں کیس کی سماعت ہوئی تو حماد اظہر کو ہتھکڑیوں میں عدالت میں پیش کیا گیا۔ تفتیشی افسر نے ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ حماد اظہر کا فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کروانا ہے جبکہ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا فرانزک بھی کرانا ہے۔ ملزم طویل عرصے تک روپوش رہا، اس لیے اس سے مزید تفتیش مکمل کرنا ضروری ہے۔
حماد اظہر کے وکلا نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے دلائل دیے کہ تفتیشی افسر کے مطابق ملزم تین سال سے روپوش تھا، تو آج تک کوئی ثبوت کیوں اکٹھے نہیں کیے گئے؟ تفتیشی افسر نے اپنی ڈیوٹی انجام نہیں دی اور ایسا کوئی میٹریل بھی پیش نہیں کیا گیا جس کی بنیاد پر جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کے رہنما کی 3 سال بعد گرفتاری، پنجاب پولیس کی تصدیق، کیا وضاحت دی؟
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حماد اظہر کے ساتھ مناسب برتاؤ نہیں کیا جا رہا۔ عدالت نے تفتیشی افسر کو مناسب رویہ اختیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ دوسروں سے ایسا سلوک کریں کہ کل ان کے سامنے جا کر شرمندگی نہ ہو۔
حماد اظہر کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں ایک شریک ملزم کے بیان کی بنیاد پر مقدمے میں ملوث کیا گیا۔ اسی ملزم کے بیان پر ڈاکٹر یاسمین راشد کو بھی مقدمے میں شامل کیا گیا تھا، تاہم وہ پہلی ہی سماعت پر مقدمے سے ڈسچارج ہوگئی تھیں۔
وکیل نے استدعا کی کہ حماد اظہر کا معاملہ بھی یہی ہے، لہٰذا انہیں بھی مقدمے سے ڈسچارج کیا جائے۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد حماد اظہر کو جناح ہاؤس حملہ کیس میں 21 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔










