حکومت کیساتھ مذاکرات بھی اور 230 دھرنے بھی، جماعت اسلامی کون سے مزید 3 آپشنز پر غور کر رہی ہے؟

لاہور (پنجاب پوسٹ) جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات بھی جاری رہیں گے اور دھرنوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا جائے گا، حکومت کی ہٹ دھرمی کی صورت میں جماعت اسلامی احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کرنے کے لیے تین آپشنز پر غور کر رہی ہے۔

فیصل چوک مال روڈ پر دھرنے کے موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آج دھرنوں کا 23واں دن ہے، ہر گزرتے دن کے ساتھ لوگوں میں شعور پیدا ہو رہا ہے اور مڈل کلاس طبقہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ جماعت اسلامی عوام کی ترجمانی کر رہی ہے، ہمارا مطالبہ سیدھا ہے کہ پیٹرول پر لیوی ٹیکس ختم کیا جائے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمت 92 سے 97 ڈالر فی بیرل ہے، حکومت جس طرح قیمتیں بڑھا رہی ہے کیا یہ لوٹ مار نہیں؟ عام آدمی 80 روپے سے زائد لیوی ٹیکس دے رہا ہے، ڈھائی کروڑ موٹر سائیکل سوار مڈل کلاس لوگوں سے ٹیکس لیا جا رہا ہے، جبکہ حکومت ہدف سے بھی 4 ہزار ارب روپے زیادہ لیوی ٹیکس لے چکی ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ آج حکومت کے ساتھ تکنیکی کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوگا، ہماری بنائی گئی کمیٹی میں سمجھدار لوگ شامل ہیں۔ حکومت مذاکرات کے نتیجے میں پیش رفت کرتی ہے تو ٹھیک، ورنہ دھرنوں کا سلسلہ مزید بڑھا دیا جائے گا۔ روزانہ 230 دھرنے ہو رہے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے احتجاج کے تین آپشنز بتاتے ہوئے کہا کہ حکومتی ہٹ دھرمی کی صورت میں پہیہ جام، ٹرانسپورٹ اور پیٹرول پمپس بند کرنے کا آپشن موجود ہے، جبکہ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ اور ٹرین مارچ بھی کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرین مارچ عام لوگوں کی ٹرین میں بیٹھ کر کیا جائے گا۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ دھرنوں کا مقصد لوگوں کو تکلیف پہنچانا نہیں، بلکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے آواز اٹھانا ہے۔ پیپلز پارٹی اور پیٹرول مافیا سمیت مختلف طبقات پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نسل پرست اور وڈیرہ شاہی پارٹی ہے جبکہ مریم نواز بھی نسل پرستی کی سیاست کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے تو سیاسی جماعتوں کی کرپشن سامنے آ جائے گی۔ اشرافیہ اور ججز کی مراعات و پنشن کا جائزہ لیا جائے، بیوروکریسی اور ججز کے بچوں اور بیگمات کی شاپنگ کا پیٹرول عام موٹر سائیکل سوار دے رہا ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ارب پتی گاڑی استعمال کرنے والا اور عام آدمی ایک جیسا لیوی ٹیکس دے رہا ہے، حکومت سود کی شرح میں ایک فیصد کمی کرے تو اربوں روپے بچ سکتے ہیں۔ بینکوں نے ایک ماہ میں اربوں روپے منافع کمایا، بینکوں کا نظام قوم کو لوٹنے کے لیے بنا ہوا ہے، جبکہ 8 ہزار ارب روپے قرض نہیں بلکہ سود کی ادائیگی میں جا رہے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے پنجاب کے تعلیمی نظام پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ نویں جماعت کے سرکاری اسکولوں کا 60 فیصد فیل ہونے کا نتیجہ افسوسناک ہے، پنجاب میں غربت میں 41 فیصد اضافہ ہوا جبکہ حکومت نے 4 ہزار اسکول بیچ دیے۔

انہوں نے کراچی اور سندھ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے میئر کا قبضہ ختم کیا جائے، سندھ میں گھوسٹ تعیناتیاں کی گئی ہیں، سرکاری اسکولوں میں 23 طالب علموں کے لیے 50 اساتذہ موجود ہیں۔ زرداری خاندان سندھیوں کے ساتھ جاگیردارانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ صوبوں کے حوالے سے آئین میں چیزیں درج ہیں، اس معاملے پر ڈائیلاگ ہونا چاہیے۔ کراچی میں سرکاری ملازمتوں میں دس گنا کا فرق ہے، محسن نقوی نے کچھ کہا ہے تو ان سے جواب پوچھا جائے گا۔

انہوں نے 7 ستمبر کو یومِ ختمِ نبوت پر قوم کو مبارکباد دی اور پاک فضائیہ کے جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا۔ فوج کے بڑے لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ جنگ لڑتے ہیں تو ایسے کام نہ کریں جن سے فوج اور عوام کے درمیان فاصلہ پیدا ہو۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے