لاہور(پنجاب پوسٹ)لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب اسمبلی کے باہر جماعت اسلامی کے دھرنے کے باعث مال روڈ اور اطراف کی سڑکوں کی مبینہ بندش کے خلاف درخواست پر آئی جی پنجاب اور ڈپٹی کمشنر لاہور کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 14 ستمبر کو جواب طلب کرلیا۔
درخواست پر سماعت لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس احمد ندیم ارشد نے شہری نسیم اختر کی درخواست پر کی۔ درخواست گزار کی جانب سے طالب حسین ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے 16 اگست سے مال روڈ پر دھرنا دیا جا رہا ہے، جس کے باعث مال روڈ اور اس کے اطراف میں متعدد سڑکیں بند ہیں اور شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کر لیا، حماد اظہر دو روز سے زیر حراست کیوں تھے؟
درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ آئین شہریوں کو احتجاج اور اجتماع کا حق دیتا ہے، تاہم احتجاج کی آڑ میں عام شہریوں کو اذیت اور مشکلات میں مبتلا نہیں کیا جا سکتا۔ سڑکوں کی بندش کے باعث روزمرہ معمولات، ٹریفک کی روانی اور شہریوں کی آمدورفت متاثر ہو رہی ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ حکام کو مال روڈ اور اس کے اطراف بند کی گئی سڑکیں کھولنے اور شہریوں کے لیے آمدورفت بحال کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔
عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد آئی جی پنجاب اور ڈی سی لاہور کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 14 ستمبر تک جواب طلب کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور ہائیکورٹ کی نئی عمارت میں 26 نئی عدالتوں کا افتتاح، کون سے کیسز سنے جائیں گے











