لاہور (پنجاب پوسٹ) پنجاب حکومت کی مفت ای بائیک سکیم کے نام پر طلبا و طالبات کا ذاتی ڈیٹا چوری کرنے کی کوششوں کا انکشاف ہوا ہے، حکومت نے جعلی ویب سائٹس اور غیر سرکاری لنکس سے محتاط رہنے کی ہدایت کردی۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب ای بائیک سکیم کا آن لائن پورٹل اس وقت غیر فعال ہے، جس کے باعث طلبہ اور دیگر اہل افراد فی الحال رجسٹریشن کے عمل تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے شروع کی گئی ای بائیک سکیم کا مقصد طلبہ کو موٹر سائیکل، بالخصوص الیکٹرک بائیکس، آسان فنانسنگ کے ذریعے فراہم کرنا ہے۔
حکام کے مطابق اسکیم کے نام پر بعض غیر سرکاری ویب سائٹس اور لنکس کے ذریعے طلبا سے رجسٹریشن کے نام پر ذاتی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں، جس میں شناختی کارڈ نمبر، موبائل نمبر اور دیگر حساس معلومات شامل ہیں۔
سرکاری معلومات کے مطابق اسکیم کے لیے عموماً 18 سال یا اس سے زائد عمر کے طلبہ اہل ہیں، جبکہ امیدوار کا ایچ ای سی سے تسلیم شدہ کالج یا یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہونا اور موٹر سائیکل کا لرنر پرمٹ یا ڈرائیونگ لائسنس رکھنا بھی ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب پاکستان کا پہلا آرٹیفیشل انٹیلی جنس ہب قائم کرنے والا صوبہ بن گیا
حکام نے واضح کیا ہے کہ اسکیم کا سرکاری آن لائن پورٹل bikes.punjab.gov.pk ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال میں یہ پورٹل غیر فعال ہے، اس لیے طلبہ کسی بھی غیر سرکاری ویب سائٹ یا لنک کے ذریعے اپلائی کرنے سے گریز کریں۔
طلبہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ غیر مصدقہ لنکس پر شناختی کارڈ نمبر، موبائل نمبر، بینکنگ معلومات یا دیگر ذاتی تفصیلات ہرگز درج نہ کریں۔
حکام کے مطابق رجسٹریشن کا عمل دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں باقاعدہ اعلان پنجاب حکومت کے سرکاری ذرائع سے کیا جائے گا۔ طلبا و طالبات کو کسی بھی غیر مصدقہ اطلاع پر اعتماد کرنے کے بجائے صرف سرکاری ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات پر انحصار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔










