لاہور(پنجاب پوسٹ)شہر کے مختلف علاقوں میں خواتین، بچوں اور بچیوں سے مبینہ جنسی زیادتی اور ہراسانی کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف تھانوں کی حدود میں ایسے 10 مقدمات درج کیے گئے ہیں، جن میں نابالغ بچوں سے متعلق کیسز بھی شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق کاہنہ کے علاقے میں 17 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر اسلحے کے زور پر زیادتی کا نشانہ بنانے اور ویڈیو بنانے کا الزام سامنے آیا، جس پر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
شادمان میں ایک نوجوان پر شادی کا جھانسہ دے کر لڑکی کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنانے اور قیمتی اشیا و نقدی لے جانے کا الزام ہے۔
ہنجر وال میں ایک خاتون نے اپنے سابق شوہر پر دھمکا کر مبینہ زیادتی کرنے کا الزام عائد کیا، جس پر پولیس نے مقدمہ درج کرلیا۔
فیکٹری ایریا، باغبانپورہ، کوٹ لکھپت، اچھرہ، مصری شاہ اور سبزہ زار سمیت دیگر علاقوں میں بھی بچوں اور دیگر افراد سے مبینہ زیادتی یا زیادتی کی کوشش کے واقعات کے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق بعض مقدمات میں متاثرین کی عمریں کم ہیں، جبکہ ایک کیس میں نجی سکول کے چوکیدار پر طالب علم کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تمام واقعات کے مقدمات درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ ملزمان کے خلاف شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں جبکہ متاثرین کے بیانات اور دیگر قانونی کارروائی بھی جاری ہے۔
پولیس حکام کے مطابق مقدمات میں سامنے آنے والے الزامات کی تفتیش قانون کے مطابق کی جا رہی ہے اور شواہد کی روشنی میں مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔










