لاہور(پنجاب پوسٹ)پنجاب اسمبلی کی جانب سے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی کی قرارداد کا مسلم یوتھ لیگ نے خیرمقدم کیا ہے۔ صدر مسلم یوتھ لیگ تابش قیوم نے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا کے بڑھتے ہوئے خطرات سے محفوظ بنانا ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جبکہ کم عمر بچوں کے ڈیجیٹل تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔
تابش قیوم کا کہنا تھا کہ بچوں کا جسمانی، ذہنی، نفسیاتی اور اخلاقی تحفظ یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا پر سائبر بُلنگ، نامناسب مواد، آن لائن استحصال اور دیگر ممکنہ خطرات سے بچانے کے لیے مضبوط حفاظتی نظام اور مؤثر قوانین ناگزیر ہیں۔
صدر مسلم یوتھ لیگ نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پنجاب اسمبلی کی قرارداد کی روشنی میں قومی سطح پر جامع قانون سازی کی جائے اور بچوں کے محفوظ ڈیجیٹل مستقبل کے لیے ایک واضح قومی پالیسی تشکیل دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقصد نوجوانوں کو ٹیکنالوجی سے دور کرنا نہیں بلکہ انہیں ٹیکنالوجی کی غلامی اور اس کے منفی اثرات سے محفوظ بنانا ہے۔
تابش قیوم نے کہا کہ محفوظ نوجوان ہی مضبوط پاکستان کی بنیاد ہیں، اس لیے بچوں کے لیے ایسا ڈیجیٹل ماحول تشکیل دینا ضروری ہے جہاں وہ جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکیں اور ساتھ ہی آن لائن خطرات سے بھی محفوظ رہیں۔











