لاہور (پنجاب پوسٹ) پنجاب حکومت نے سموگ سیزن شروع ہونے سے پہلے ہی فضائی آلودگی کے خلاف پیشگی کارروائی کا فیصلہ کرلیا، انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی پنجاب نے تمام متعلقہ اداروں کو اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے سموگ کے بڑے ذرائع کے خلاف کریک ڈاؤن کی تیاری شروع کردی۔
EPA پنجاب نے تمام اضلاع میں اینٹی سموگ کمیٹیوں کو فوری فعال کرکے جامع ایکشن پلان پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ کو بھی فضائی آلودگی کے خلاف کارروائیوں کے لیے متحرک کردیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق فصلوں کی باقیات جلانے، صنعتی آلودگی، اینٹوں کے بھٹوں، اسٹون کرشرز اور ٹائر پائرولائسز پلانٹس کے خلاف سموگ سے پہلے ہی کارروائی کی جائے گی۔ تعمیراتی منصوبوں سے اٹھنے والی گردوغبار کی روک تھام کے لیے ڈسٹ کنٹرول ایس او پیز پر بھی سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔
EPA پنجاب نے سُتھرا پنجاب اتھارٹی کو بھی مراسلہ جاری کرتے ہوئے سڑکوں کی خشک صفائی ترک کرکے مکینیکل اور ویٹ سویپنگ کو ترجیح دینے کی ہدایت کی ہے۔ حکام کے مطابق خشک صفائی کے باعث سڑکوں پر موجود گردوغبار دوبارہ فضا میں شامل ہوتا ہے، جس سے PM10 اور PM2.5 آلودگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
سُتھرا پنجاب اتھارٹی کو پنجاب بھر کی اہم شاہراہوں اور ٹریفک کوریڈورز پر مکینیکل اور ویٹ سویپنگ یقینی بنانے کے ساتھ سڑکوں کے کناروں پر کچرے، پتوں اور دیگر فضلے کو جلانے کی مکمل روک تھام کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سموگ کے ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی، باقاعدہ مانیٹرنگ اور صفائی کے مؤثر انتظامات یقینی بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ اکتوبر سے جنوری تک سموگ کے اہم سیزن کے دوران سڑکوں کی صفائی اور گردوغبار کی خصوصی نگرانی کی جائے گی۔
EPA پنجاب نے سینیٹیشن اسٹاف اور کنٹریکٹرز کو فضلہ جلانے سے سختی سے روکنے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سموگ کا انتظار نہیں کیا جائے گا بلکہ آلودگی کے تمام بڑے ذرائع کے خلاف پیشگی کارروائی کی جائے گی۔
پنجاب حکومت کی جانب سے اس بار سموگ کنٹرول کے لیے ضلعی انتظامیہ، صفائی اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کو سیزن شروع ہونے سے پہلے ہی متحرک کردیا گیا ہے۔










