لاہور(پنجاب پوسٹ) وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب نے صوبے میں ٹریفک مینجمنٹ کو مزید بہتر بنانے کے لیے اہم اقدامات کا فیصلہ کرلیا۔ ہیڈ آف ٹریفک پنجاب محمد وقاص نذیر نے سی ٹی اوز، ڈی پی اوز اور ڈی ٹی اوز کو مراسلہ جاری کرتے ہوئے ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
مراسلے میں ہیلمٹ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی یقینی بنانے اور اوورلوڈنگ کرنے والی ٹرانسپورٹ کے خلاف قانونی کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔
سڑکوں اور چوراہوں سے بھکاریوں کو قانون کے مطابق ہٹانے جبکہ ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے ریت، ملبہ اور دیگر سامان لے جانے والی ٹریکٹر ٹرالیوں کو ڈھانپنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ٹریکٹر ٹرالی مالکان اور متعلقہ اداروں کو سامان ڈھانپنے کے حوالے سے ایڈوائزری جاری کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
ٹریفک چالان ادا نہ کرنے والے ڈیفالٹر شہریوں کی فہرستیں محکمہ ایکسائز اور ضلعی پولیس کو بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مراسلے کے مطابق ٹریفک چالان کے ڈیفالٹر شہری محکمہ ایکسائز اور پولیس خدمت مراکز کی بعض سہولیات سے محروم ہوں گے۔
مراسلے میں پٹرولنگ ٹریفک افسران کو ٹریفک خلاف ورزیوں اور سیف سٹی کیمروں کی نشاندہی پر فوری کارروائی کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
لاہور کے داخلی و خارجی راستوں، خصوصاً شاہدرہ اور ٹھوکر نیاز بیگ پر خصوصی ٹریفک انتظامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ فیروزپور روڈ کو مال روڈ، کینال روڈ، جیل روڈ اور مین بلیوارڈ کی طرز پر ماڈل روڈ بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
رائیونڈ روڈ اور پائن ایونیو پر ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے سگنلز نصب کرنے جبکہ مال روڈ اور جیل روڈ پر پیدل سڑک عبور کرنے کے لیے الیکٹرک سگنلز لگانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
آئندہ گنے کے سیزن میں اوورلوڈنگ کرنے والی گنے کی ٹرالیاں سڑکوں پر چلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ شہری علاقوں میں لین ڈسپلن یقینی بنانے اور ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
مراسلے کے مطابق شہری علاقوں میں موٹر سائیکلوں اور رکشوں کے لیے انتہائی بائیں جانب لین مختص کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے۔
ہیڈ آف ٹریفک پنجاب محمد وقاص نذیر نے تمام ٹریفک افسران کو مراسلے میں دی گئی ہدایات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سڑکوں پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنا اور قانون کی پاسداری کروانا ٹریفک پولیس کی اولین ترجیح ہے۔










