لاہور(پنجاب پوسٹ)پنجاب کی فلور ملز کو پاسکو گوداموں سے فراہم کی جانے والی گندم کے معیار پر سوالات اٹھنے لگے، ذرائع کے مطابق فلور ملز کو سپلائی کی جانے والی گندم میں 21 فیصد سے زائد موئسچر کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ بعض گندم پانی لگی اور خراب حالت میں ہونے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔
فلور ملز مالکان کے مطابق نارمل گندم میں موئسچر کی شرح تقریباً 9 سے 11 فیصد ہونی چاہیے، جبکہ فلور ملز کو تقریباً ساڑھے 14 فیصد موئسچر والا آٹا فراہم کرنے کا پابند کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے ہی 21 فیصد سے زائد موئسچر والی گندم سے تیار ہونے والے آٹے کا معیار ناقص رہنے کا خدشہ ہوتا ہے۔
فلور ملز مالکان کا الزام ہے کہ پاسکو کے بعض ملازمین کی جانب سے پانی لگی گندم کی سپلائی کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق پانی لگی گندم میں بدبو اور کائی پیدا ہونے کے باعث وہ قابلِ استعمال نہیں رہتی، جس سے آٹے کے معیار اور صارفین کی صحت سے متعلق خدشات پیدا ہوتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاسکو سے فلور ملز کو گندم تقریباً 3800 روپے فی من کے حساب سے مل رہی ہے، جبکہ اوپن مارکیٹ میں گندم کا ریٹ تقریباً 4650 روپے فی من بتایا جا رہا ہے۔ فلور ملز مالکان کا دعویٰ ہے کہ زائد موئسچر والی گندم کی فراہمی سے سرکاری ریٹ پر فی من تقریباً 1100 روپے تک اضافی مالی نقصان کا سامنا ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کسان اتحاد کا 25 ستمبر کو اسلام آباد اور راولپنڈی میں ملین مارچ کا اعلان
ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں نہ بارشوں کا سلسلہ جاری ہے اور نہ ہی کوئی غیر معمولی سیلابی صورتحال ہے، اس کے باوجود 21 فیصد سے زائد موئسچر والی گندم کی سپلائی نے پاسکو گندم کے ذخائر اور انتظامی نگرانی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ فلور ملز مالکان نے معاملے کی شفاف تحقیقات اور گندم کے معیار کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔










