لاہور ( پنجاب پوسٹ ) آسٹریلیا میں باسمتی چاول کے ٹریڈ مارک سے متعلق اہم مقدمے میں پاکستان کو بڑی قانونی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ آسٹریلیا کی وفاقی عدالت نے باسمتی لفظ کو اپنے حق میں بطور سرٹیفکیشن ٹریڈ مارک رجسٹر کرانے سے متعلق بھارتی ادارے ایگریکلچرل اینڈ پروسیسڈ فوڈ پروڈکٹس ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی، اپیڈا، کا دعویٰ مسترد کر دیا ہے۔
عدالت نے بھارتی ادارے کی جانب سے دائر کی گئی اپیل بھی مسترد کرتے ہوئے مقدمے میں پاکستان کے مؤقف کو برقرار رکھا۔ عدالت نے بھارتی ادارے کو مدعا علیہ کے اخراجات ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے، جبکہ ان اخراجات کا حتمی تعین باہمی رضامندی یا قانونی طریقہ کار کے تحت کیا جائے گا۔
پاکستان کی وزارتِ تجارت نے آسٹریلوی وفاقی عدالت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پاکستان کے لیے اہم کامیابی قرار دیا ہے۔ وزارتِ تجارت کے مطابق عدالت کا فیصلہ باسمتی چاول کے حوالے سے پاکستان کے جائز حقوق، تجارتی مفادات اور برآمدی شناخت کے تحفظ کی کوششوں کی اہم پیش رفت ہے۔
وزیرِ تجارت جام کمال خان نے باسمتی کیس میں پاکستان کے مفادات کے تحفظ کے لیے وزارتِ تجارت کی ٹیم، متعلقہ حکام اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی مربوط کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے آسٹریلوی عدالت کے فیصلے کو پاکستان کے زرعی ورثے اور باسمتی چاول کی عالمی تجارتی شناخت کے لیے اہم کامیابی قرار دیا۔
وزارتِ تجارت کے مطابق آسٹریلوی عدالت کا فیصلہ باسمتی کو جغرافیائی علامت، یعنی Geographical Indication (GI)، قرار دینے کے حوالے سے پاکستان کے اصولی اور مسلسل مؤقف کی بھی تائید کرتا ہے۔ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ باسمتی ایک مخصوص جغرافیائی خطے سے منسلک زرعی پیداوار ہے اور اس نام پر کسی ایک ملک یا ادارے کی اجارہ داری قائم نہیں ہونی چاہیے۔
اس قانونی معاملے کا آغاز اس وقت ہوا جب بھارتی ادارے اپیڈا نے آسٹریلیا میں چاول کے لیے ’باسمتی‘ لفظ کو سرٹیفکیشن ٹریڈ مارک کے طور پر رجسٹر کرانے کی درخواست دی۔ تاہم آسٹریلیا کے رجسٹرار آف ٹریڈ مارکس کے نمائندے نے 22 دسمبر 2022 کو بھارتی ادارے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔
درخواست مسترد کرنے کی بنیادی وجہ یہ قرار دی گئی تھی کہ ’باسمتی‘ لفظ صرف اپیڈا سے تصدیق شدہ چاولوں کو ان باسمتی چاولوں سے الگ شناخت نہیں کر سکتا جو دیگر تاجروں کی جانب سے قانونی طور پر پیدا اور مارکیٹ کیے جاتے ہیں۔ اس فیصلے کے خلاف بھارتی ادارے کی جانب سے آسٹریلوی وفاقی عدالت سے رجوع کیا گیا، تاہم عدالت نے بھارتی اپیل کو بھی مسترد کر دیا۔
پاکستان کے لیے اس فیصلے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ باسمتی چاول ملک کی اہم زرعی اور برآمدی مصنوعات میں شامل ہیں۔ باسمتی کی عالمی شناخت اور اس کے تجارتی نام سے وابستہ حقوق کا تحفظ پاکستانی چاول کے کاشت کاروں، برآمد کنندگان اور مجموعی طور پر ملکی زرعی برآمدات کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔
وزارتِ تجارت کا کہنا ہے کہ آسٹریلوی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے اس مؤقف کو تقویت دیتا ہے کہ باسمتی کے نام، اس کی جغرافیائی شناخت اور اس سے وابستہ تجارتی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر قانونی اور سفارتی کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔













