اسلام آباد ( پنجاب پوسٹ ) سانحہ پمز کی ابتدائی انکوائری رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کردی گئی، ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹی نے واقعے میں غفلت اور لاپرواہی کے مرتکب پمز کے 10 افسران اور متعلقہ عملے کو فوری طور پر عہدوں سے ہٹانے کی اہم سفارش کردی۔
ذرائع کے مطابق سابق سیکرٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں قائم انکوائری کمیٹی نے پمز کے انتظامی اور متعلقہ افسران کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا اور متعدد افسران کو سانحے کا ذمہ دار قرار دیا۔
کمیٹی کی سفارشات میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز ڈاکٹر عمران سکندر سمیت 10 افسران اور متعلقہ عملے کو فوری طور پر ان کے عہدوں سے ہٹانے کی تجویز دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ہٹائے جانے والے افسران میں پمز کے ٹاپ پانچ اعلیٰ افسران بھی شامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں قرار دیا کہ متعلقہ افسران اور عملے کی جانب سے غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کیا گیا، جس کے باعث انتظامی اور حفاظتی نظام کی خامیاں سامنے آئیں۔
رپورٹ میں موجودہ قائم مقام سیکرٹری کیپٹن (ر) محمود کی سفارشات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ کمیٹی کے مطابق پمز کو انتہائی غیر پیشہ ورانہ انداز میں چلایا جا رہا تھا اور ادارے کے انتظامی امور کے لیے مؤثر اور واضح ڈھانچہ موجود نہیں تھا۔
انکوائری کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ عہدوں سے ہٹائے جانے والے افسران کی جگہ پیشہ ور اور اہل افسران کی تعیناتیاں کی جائیں تاکہ اسپتال کے انتظامی امور کو بہتر بنایا جاسکے۔
رپورٹ میں پمز کے لیے باقاعدہ گورننگ بورڈ تشکیل دینے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ کمیٹی کے مطابق اسپتال کی کارکردگی اور انتظامی معاملات کی باقاعدہ مانیٹرنگ ضروری ہے، جبکہ پمز کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے واضح انتظامی ڈھانچہ موجود ہونا چاہیے۔
ذرائع کے مطابق انکوائری رپورٹ میں سانحے کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے انتظامی اور حفاظتی نظام کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔










