رینالہ (پنجاب پوسٹ) یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں جدید اور ابھرتے ہوئے پیشہ ورانہ شعبوں سے طلبہ کو ہم آہنگ کرنے کے لیے 60 سے زائد نئے ڈگری پروگرامز متعارف کرا دیے گئے، جن میں بی ایس ڈیجیٹل میڈیا اینڈ اے آئی بھی شامل ہے۔ اس حوالے سے شعبہ میڈیا اینڈ کمیونیکیشن اسٹڈیز کے زیراہتمام فال 2026ء کے نئے طلبہ و طالبات کے لیے تعارفی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
تقریب میں بی ایس ڈیجیٹل میڈیا اینڈ اے آئی اور بی ایس میڈیا اینڈ کمیونیکیشن اسٹڈیز میں داخلہ لینے والے طلبہ نے شرکت کی۔ سیشن کی صدارت وائس چانسلر رینالہ یونیورسٹی آف اوکاڑہ پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین نے کی، جبکہ پی ٹی وی نیوز کی ہیڈ آف ڈیجیٹل ڈاکٹر ہما صدف اور ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک ریلیشنز پنجاب کی ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر حفصہ جاوید خواجہ نے بطور مہمان مقرر شرکت کی۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین نے کہا کہ یونیورسٹی نے فال 2026ء کے سمسٹر میں 60 سے زائد نئے تعلیمی پروگرامز شروع کیے ہیں، جن کا مقصد طلبہ کو جدید اور تیزی سے ابھرتے ہوئے پیشہ ورانہ شعبوں سے ہم آہنگ تعلیم اور عملی مہارتیں فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ صرف ڈگری کے حصول تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی زندگی کے لیے ضروری مہارتیں بھی حاصل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’تعلیم بہترین سرمایہ کاری ہے‘‘ اور طلبہ کو یونیورسٹی میں اپنے قیام کے دوران زیادہ سے زیادہ علمی اور عملی استفادہ کرنا چاہیے۔
وائس چانسلر نے اعلان کیا کہ طلبہ کو جدید سہولیات اور عملی تربیت فراہم کرنے کے لیے یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں اسٹیٹ آف دی آرٹ ڈیجیٹل میڈیا لیبارٹری بھی قائم کی جائے گی۔
شعبہ میڈیا اینڈ کمیونیکیشن اسٹڈیز کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر زاہد بلال نے کہا کہ بی ایس ڈیجیٹل میڈیا اینڈ اے آئی پروگرام کا آغاز وائس چانسلر کا وژن ہے، جبکہ نئے پروگرام میں طلبہ کی بھرپور دلچسپی اس بات کی عکاس ہے کہ نوجوان جدید دور کے تقاضوں اور ابھرتے ہوئے مواقع سے آگاہ ہیں۔
ڈاکٹر ہما صدف نے میڈیا اسٹڈیز میں طلبہ کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو پاکستان میں میڈیا ایجوکیشن کے مستقبل کے لیے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت صحافت میں بعض کاموں کو خودکار بنانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے، تاہم خبر کی اصل پن، صداقت اور ساکھ کے لیے انسانی محنت، فیصلہ سازی اور ادارتی ذمہ داری بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
انہوں نے طلبہ کو تحقیقاتی صحافت میں مہارت حاصل کرنے اور غلط و گمراہ کن معلومات کے پھیلاؤ کی روک تھام میں کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔
ڈاکٹر حفصہ جاوید خواجہ نے یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں ڈیجیٹل میڈیا اینڈ اے آئی پروگرام شروع کرنے پر وائس چانسلر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اسے کسی بھی سرکاری یونیورسٹی میں ایک منفرد اقدام قرار دیا۔
انہوں نے طلبہ کو خبردار کیا کہ ڈیجیٹل دنیا میں معلومات کے بے پناہ سیلاب کے ساتھ غلط، گمراہ کن اور جعلی معلومات بھی موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کو انسان کا متبادل سمجھنے کے بجائے انسانی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر ٹول کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔
ڈاکٹر حفصہ جاوید خواجہ نے طلبہ کو اے آئی ٹولز کے مؤثر استعمال کے لیے پرامپٹ انجینئرنگ سیکھنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ جدید ڈیجیٹل دور میں کامیابی کے لیے ٹیکنالوجی کے ساتھ تخلیقی صلاحیت، تنقیدی سوچ، پیشہ ورانہ اخلاقیات اور انسانی فیصلہ سازی بھی ناگزیر ہیں۔










