لاہور (پنجاب پوسٹ) سانحہ پمز ہسپتال کے بعد پنجاب حکومت نے سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں میں آتشزدگی کے واقعات سے بچاؤ اور ایمرجنسی رسپانس بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات شروع کر دیے۔ محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن میں اعلیٰ سطح کا اجلاس صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کی زیر صدارت ہوا، جس میں ہسپتالوں میں فائر سیفٹی اور ایمرجنسی رسپانس اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں ٹیکنیکل ٹاسک فورس بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ سیکرٹری صحت پنجاب عظمت محمود، سیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر، تمام ڈویژنل کمشنرز، وائس چانسلرز، ایگزیکٹو ڈائریکٹرز، ایم ایس حضرات اور دیگر افسران نے شرکت کی۔
صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے ہسپتالوں میں فائر سیفٹی اور الیکٹریکل سیفٹی کے اقدامات ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مریضوں اور ہسپتال کے عملے کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے، اس مقصد کے لیے کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے غفلت یا کوتاہی پر کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ غیر ذمہ داری کے معاملے میں زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی جائے گی۔ جو افسر یا ملازم اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرے گا، اس کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
خواجہ سلمان رفیق نے ریسکیو 1122 کو تمام ہسپتالوں کے عملے کو ہنگامی حالات سے نمٹنے کی باقاعدہ تربیت دینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ افسران سے لے کر تمام سطح کے ملازمین تک ہر فرد کو ایمرجنسی رسپانس اور فائر سیفٹی کی تربیت حاصل ہونا ضروری ہے۔
صوبائی وزیر صحت نے ہسپتالوں میں عملے کی ذمہ داریوں کا واضح تعین اور مؤثر احتساب کا نظام بنانے کی بھی ہدایت کی۔ ریسکیو 1122 کی ٹیموں کو تمام ہسپتالوں کے ساتھ مربوط کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ ہر ہسپتال کے لیے جامع ایمرجنسی پلان، خطرات کی نشاندہی اور ضروری حفاظتی آلات کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔
سیکرٹری صحت پنجاب عظمت محمود نے اجلاس کو بتایا کہ تمام ہسپتالوں کے ادارہ جاتی فریم ورک کا ازسرنو جائزہ لے کر بہتری کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پنجاب بھر کے ہسپتالوں میں ہنگامی بنیادوں پر فائر الارم اور فائر ڈیٹیکشن سسٹم نصب کیے جا رہے ہیں۔
عظمت محمود نے ہدایت کی کہ ہسپتالوں میں بجلی کے آلات، وائرنگ اور دیگر برقی نظام کا تفصیلی معائنہ کیا جائے اور ماہانہ رپورٹ محکمہ صحت کو ارسال کی جائے۔ صوبائی سطح پر قائم ٹاسک فورس تمام ہسپتالوں کے دورے کرکے حفاظتی اور احتیاطی اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنائے گی۔
سیکرٹری صحت نے تمام ہسپتالوں کے چیف ایگزیکٹو افسران، میڈیکل سپرنٹنڈنٹس اور ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو ریسکیو 1122 کے تعاون سے آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر انخلا اور ایمرجنسی رسپانس پلان تیار کرنے کی ہدایت کی۔
ہر وارڈ میں ایک ذمہ دار ایمرجنسی رسپانس اہلکار اور فائر وارڈن مقرر کیا جائے گا، جبکہ تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی تربیت، موک ایکسرسائزز اور حفاظتی آلات کی جانچ فوری طور پر اپ ڈیٹ کی جائے گی۔
عظمت محمود نے آکسیجن کے محفوظ استعمال اور آکسیجن سلنڈرز سے ممکنہ آگ کے خطرات کے پیش نظر آکسی میٹرز کے استعمال کو بھی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام ہسپتال فائر سیفٹی اور ایمرجنسی آلات کی جانچ مکمل کرکے جلد آڈٹ رپورٹ جمع کروائیں گے۔ محکمہ مواصلات و تعمیرات کی ٹیموں کے ساتھ عمارتوں کا سروے کرکے تعمیراتی اور حفاظتی آڈٹ بھی مکمل کیا جائے گا۔
اجلاس میں ڈویژنل و ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس، محکمہ مواصلات و تعمیرات اور دیگر متعلقہ اداروں کو باہمی رابطے کے ذریعے ہسپتالوں میں موجود تمام ممکنہ خطرات کی نشاندہی اور بروقت تدارک یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی گئی۔











