لاہور(پنجاب پوسٹ) نیپال کی سفیر مس ریٹا دھیٹل نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کیا، جہاں صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمان سہگل سے ملاقات کے دوران پاکستان اور نیپال کے درمیان دوطرفہ تجارت اور باہمی اقتصادی روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمان سہگل نے کہا کہ پاکستان اور نیپال کے تعلقات دیرینہ ہیں تاہم دونوں ممالک کے درمیان تجارت ان تعلقات کی عکاسی نہیں کرتی۔ پاکستان نیپال کو جراحی آلات سمیت مختلف اشیاء برآمد کرتا ہے، جبکہ دونوں ممالک باہمی تعاون سے تجارتی حجم میں اضافہ کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فرنیچر، چاول، سیاحت سمیت متعدد شعبوں میں تجارت اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ لاہور چیمبر نیپالی ایکسپورٹرز کے لیے پاکستانی کاروباری افراد کے ساتھ بی ٹو بی میٹنگز کے انعقاد میں معاونت کرسکتا ہے۔
صدر لاہور چیمبر نے قدرتی آفات کے باعث قیمتی جانوں کے ضیاع پر نیپالی عوام سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام اس مشکل گھڑی میں متاثرہ نیپالیوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
نیپال کی سفیر مس ریٹا دھیٹل نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ فری ٹریڈ معاہدہ ہوچکا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان زیادہ سے زیادہ تجارتی وفود کا تبادلہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور نیپال کے درمیان موجودہ تجارت انتہائی کم ہے جسے باہمی تعاون کے ذریعے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
نیپالی سفیر کے مطابق نیپال پاکستان کی ٹیکسٹائل، چاول، جراحی آلات سمیت دیگر مصنوعات کی درآمد میں دلچسپی رکھتا ہے۔ پاکستان نیپال سے ہینڈی کرافٹس اور چائے درآمد کرنے کے ساتھ ساتھ سیاحت اور ہوٹلنگ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرسکتا ہے۔
مس ریٹا دھیٹل نے کہا کہ دونوں ممالک مشترکہ مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے تجارتی اور اقتصادی روابط کو مزید آگے بڑھا سکتے ہیں۔ نیپال پاکستانی شہریوں کو ویزا آن ارائیول کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے اردو ڈرامے نیپال میں بہت پسند کیے جاتے ہیں، جو دونوں ممالک کے عوام کے درمیان موجود ثقافتی قربت کی عکاسی کرتے ہیں۔












