پنجاب کی جنریشن زی اب گہرے سمندروں پر راج کرے گی، "نیشنل زیر آب خود کار وہیکل ڈیزائن” مقابلوں میں انوکھا کیا تھا؟

لاہور (پنجاب پوسٹ) یونیورسٹی آف لاہور میں پہلی نیشنل زیرِ آب خودکار وہیکل ڈیزائن مقابلوں کا انعقاد کیا گیا، جس میں سرکاری و نجی جامعات کی 14 ٹیموں نے شرکت کی۔

قومی سطح کے مقابلے میں شعبہ انجینئرنگ سے وابستہ طلبہ نے روبوٹکس، آٹومیشن اور مکینیکل انجینئرنگ کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، جبکہ خودکار زیرِ آب وہیکلز کے عملی مظاہرے بھی پیش کیے گئے۔

ریئر ایڈمرل سہیل احمد العظمی نے مقابلے میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور یونیورسٹی آف لاہور کے سوئمنگ پول میں خودکار زیرِ آب وہیکلز کے عملی مظاہرے کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ نوجوان انجینئرز میں گہرے پانیوں میں انجینئرنگ اور روبوٹکس کے شعبے میں جدت کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔

ریئر ایڈمرل سہیل احمد العظمی کے مطابق نوجوانوں کے تیار کردہ خودکار زیرِ آب ماڈلز قومی دفاعی صلاحیتوں میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔

فورم میں پاکستان نیوی وار کالج، سپارکو، پی ٹی اے، محکمہ آبپاشی اور محکمہ موسمیات سمیت مختلف اداروں کے ماہرین نے بھی شرکت کی۔ تقریب میں زیرِ آب تحقیق، ماحولیاتی نگرانی، بحری آپریشنز اور دفاع کے لیے مقامی ٹیکنالوجی کی تیاری پر زور دیا گیا۔

یونیورسٹی آف لاہور کے مطابق پاکستان میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے لیے بین الشعبہ جاتی تعاون اور جدت ناگزیر ہے، جبکہ مستقبل میں عملی انجینئرنگ تعلیم، تحقیق، جدت اور بین الشعبہ جاتی تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

نیشنل سبمرسیبل آٹونومس وہیکل ڈیزائن کمپیٹیشن 2026 میں پنجاب یونیورسٹی نے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ NUST نے دوسری اور ٹیکسلا UET کی ٹیم نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔

مہمانِ خصوصی نے کامیاب ٹیموں اور دیگر شرکاء میں انعامات اور اسناد بھی تقسیم کیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے