مربوں کا مالک خاندان مگر بیٹی گھروں میں کام کرنے پر مجبور، دھریجہ نگر کی کائنات بی بی کی دردناک کہانی، کیا گمنام میت کو انصاف ملے گا؟

رحیم یار خان ( پنجاب پوسٹ ) خان پور کے جمالی نگر سے 24 سالہ کائنات بی بی کی لاش دو روز بعد کھیتوں سے برآمد کر لی گئی ہے۔ کائنات بی بی کا تعلق ایک ایسے خاندان سے تھا جسے بستی میں اس کے بزرگوں کی نیکی، محنت اور غریب پروری کی وجہ سے عزت حاصل تھی۔ ان کے دادا مستری عبدالقادر خان جمالی کے نام سے بستی موسوم ہوئی۔ ان کے بیٹے نور احمد اور خدا بخش نے بھی اپنی استطاعت کے مطابق زندگی گزاری لیکن وقت کے ساتھ غربت نے اس خاندان کو بھی اپنی گرفت میں لے لیا۔

نور احمد کا بیٹا اقرار حسین محنتی اور جفاکش شخص تھا۔ ایک بیٹا اور ایک بیٹی اس کی اولاد تھے۔ بیٹے کی صحت اور ذہنی حالت بھی ٹھیک نہیں تھی۔ زندگی پہلے ہی مشکل تھی کہ اقرار حسین کو کینسر نے آ لیا۔ علاج کے لیے بہت کوشش کی گئی لیکن غربت نے علاج کے راستے بھی محدود کر دیے۔ بیماری بڑھتی گئی اور بالآخر اقرار حسین دنیا سے چلا گیا۔

اس کے بعد گھر کی ذمہ داری ایک جوان بیٹی کائنات کے کندھوں پر آ گئی۔ وہ خان پور میں گھروں میں کام کرتی تھی اور اپنی بوڑھی دادی اور بیمار بھائی کا سہارا بنی ہوئی تھی۔ دو روز قبل وہ کام سے واپس گھر نہ پہنچی تو اہل خانہ اور بستی میں تشویش پھیل گئی۔ تلاش شروع ہوئی، پولیس کو اطلاع دی گئی اور اس کے اغوا کا مقدمہ بھی تھانہ سٹی خان پور میں درج کیا گیا۔

گزشتہ روز صبح اس کی لاش بستی سے ملحقہ کھیتوں سے برآمد ہوئی۔ ایک غریب گھر کی وہ بچی جو اپنے بیمار بھائی اور بوڑھی دادی کے لیے گھروں میں کام کرتی تھی اب خود مٹی میں دفن ہونے والی ہے۔

ڈی پی او رحیم یار خان عرفان علی سموں نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے میرٹ پر تحقیقات اور ملزمان کی فوری گرفتاری کے احکامات دیے ہیں۔ ڈی پی او خود جائے وقوعہ پر پہنچے، فرانزک ٹیموں نے شواہد اکٹھے کیے اور پولیس مختلف پہلوؤں سے تفتیش کر رہی ہے۔ امید ہے کہ تحقیقات اصل قاتلوں تک پہنچیں گی اور انہیں قانون کے مطابق سزا ملے گی۔

لیکن ایک سوال اس سے کہیں بڑا ہے۔ بیمار بھائی اور بزرگوں داسی کی کل کائنات، کائنات واپس کیسے آ سکے گی؟ ایسے واقعات آخر کیوں بڑھتے جا رہے ہیں؟ کچھ ہی عرصہ پہلے کوٹ سمابہ سے ایک بچی کی لاش ملی۔ اس واقعے کے بعد پولیس کارروائی بھی خود ایک الگ سوال بن گئی۔ پھر رحیم یار خان شہر میں کوڑے کے ڈرم سے 14 سالہ بچے کی لاش ملی اور اب خان پور کے کھیتوں سے کائنات کی لاش برآمد ہوئی ہے۔

بچوں کی لاشیں مل رہی ہیں، مقدمے درج ہو رہے ہیں، تحقیقات ہو رہی ہیں، افسران موقع پر پہنچ رہے ہیں، فرانزک ٹیمیں شواہد جمع کر رہی ہیں اور پھر اگلی خبر آ جاتی ہے۔ ہم چند دن افسوس کرتے ہیں اور پھر خاموش ہو جاتے ہیں۔ اب بھی ہوخاموش ہوجائیں گے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے