اسلام آباد( پنجاب پوسٹ) اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے عارضی طور پر روک دیا۔ عدالت نے کہا کہ بھرتیوں کے اشتہار پر عملدرآمد پروموشن سے متعلق مرکزی درخواست پر حتمی فیصلے تک معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان کی آسامیوں پر بھرتی کے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست نمٹا دی جبکہ مرکزی کیس 22 اگست کو سماعت کے لئے مقرر کر دی
درخواست کیا تھی؟
درخواست میں وزارتِ داخلہ، قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنا تے ہوئے موقف اختیار کیا گیا کہ محکمے میں 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی لسٹ میں درخواست گزار کانمبر 232 ہے ،وہ اے این ایف میں گزشتہ 10 سال سے ایک ہی عہدے پر کام کر رہا ہے اور اسے کوئی ترقی نہیں ملی ، ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دینا غیر قانونی ہے۔ اے این ایف سروس رولز تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کر کے براہِ راست بھرتی کا اشتہار دیا گیا۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس سٹرکچر بحال کیا جائے، اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کیا جائے اور خالی آسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کیلئے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کیا جائے۔
درخواست گزار محمد شفیق کون ہے ؟
اے این ایف حکام نے پنجاب پوسٹ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ شکایت کنندہ میانوالی کا ایک کانسٹیبل ہے۔ اپنی 11 سالہ ملازمت میں سے اس نے مبینہ طور پر ریکارڈ میں ہیرا پھیری کرکے 9 سال پنجاب میں ہی تعیناتی برقرار رکھی، یہاں تک کہ اس کی نشاندہی ہوئی اور اسے سال 2024 میں بلوچستان تعینات کر دیا گیا۔ سال 2025 میں اسے بغیر اجازت غیر حاضر رہنے اور جعلی طبی دستاویزات پیش کرنے پر محکمانہ کارروائی کے تحت ایک سال کے لیے سالانہ تنخواہ میں انریکمنٹ نہ لگانے کی سزا دی گئی۔
درخواست گزار کا مئوقف کیا ہے ؟
درخواست گزار اے این ایف کانسٹیبل شفیق کا یہ مؤقف کہ اے این ایف نے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی (DPC) کا اجلاس منعقد نہیں کیا اور انہیں پروموشن کے لیے زیرِ غور نہیں لایا
اے این ایف کا جواب کیا ہے ؟
اے این ایف گزشتہ دو برسوں کے دوران ستمبر 2024، جنوری 2025 اور جنوری 2026 میں تین ڈی پی سی اجلاس منعقد کر چکی ہے۔ ایک اور اجلاس بھی زیرِ عمل ہے، جو بھرتی 2026 کو حتمی شکل دینے سے پہلے مکمل کر لیا جائے گا۔ اس طرح تمام اہل امیدواروں پر غور کیا جائے گا اور حاضر سروس اہلکاروں کی سینیارٹی متاثر نہیں ہوگی۔ جاری بھرتی ان آسامیوں پر نہیں ہو رہی جو ترقی (Promotion) کے لیے مختص ہیں، بلکہ ان اسامیوں پر کی جا رہی ہے جو صرف براہِ راست بھرتی (Direct Recruitment) کے ذریعے پُر کی جا سکتی ہیں۔
اے این ایف کا کہنا ہے کہ درخواست گزار کا سیکنڈمنٹ/ٹرانسفر پر تعینات افراد کے خلاف اعتراض بھی جانبدارانہ معلوم ہوتا ہے، کیونکہ اے این ایف میں تمام ٹرانسفر اور سیکنڈمنٹ کی تعیناتیاں اے پی ٹی رولز 2010 کے تحت کی جاتی ہیں، جو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے نافذ کیے تھے، اور ان میں تبدیلی صرف اسٹیبلشمنٹ ڈویژن یا وفاقی کابینہ ہی کر سکتی ہے۔
عدالتی فیصلے پر اے این ایف کا موقف کیا ہے ؟
معزز عدالت نے یہ حکم اے این ایف کا مؤقف سنے بغیر جاری کیا، حالانکہ ایسے معاملات میں عمومی طور پر متعلقہ محکمے کا مؤقف حاصل کرنے کے بعد ہی فیصلہ کیا جاتا ہے۔ درخواست گزار نے بھی محکمانہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقررہ طریقۂ کار اختیار کرنے کے بجائے براہِ راست عدالت سے رجوع کیا، جو بظاہر جاری بھرتی کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔
فیصلے کے بعد اے این ایف کا اگلا قدم کیا ہوگا؟
معزز عدالت میں جلد سماعت کی درخواست دائر کی جائے گی تاکہ کیس کو جلد مقرر کیا جا سکے۔ عدالت کو اے این ایف کی حقیقی اور قانونی پوزیشن سے آگاہ کرتے ہوئے استدعا کی جائے گی کہ حکمِ امتناعی (Stay Order) واپس لیا جائے تاکہ جاری بھرتی کا عمل بروقت مکمل کیا جا سکے۔














