اوکاڑہ ( پنجاب پوسٹ ) گرین بس سروس کے کنڈکٹر پر تشدد کا معاملہ طول پکڑ گیا، گزشتہ رات 5 سے 6 افراد کی جانب سے کنڈکٹر کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعے پر ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ محمد اکرام ملک اور ڈی پی او اوکاڑہ ڈاکٹر اسد اعجاز ملہی نے نوٹس لے لیا۔
واقعے کے بعد تھانہ صدر پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے گرین بس سروس کے عملے کی مدعیت میں تشدد میں ملوث ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ پولیس کے مطابق مقدمہ درج ہونے کے بعد ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کردی گئی۔
ایس ایچ او تھانہ صدر شاہد اقبال کی سربراہی میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا، تاہم دیگر ملزمان کی گرفتاری عمل میں نہ آنے پر گرین بس سروس کے عملے کی جانب سے دوبارہ احتجاج کیا گیا۔
مزید پڑھیں : پنجاب پولیس حکام شہریوں کا CDR کیسے حاصل کرسکیں گے؟ اہم تبدیلی کردی گئی
احتجاج کے دوران گرین بس کے عملے نے مطالبہ کیا کہ تشدد کے واقعے میں ملوث باقی ملزمان کو بھی فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ بس ڈرائیور کا کہنا تھا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے عملے کے ساتھ اس طرح کا رویہ کسی صورت قابل قبول نہیں اور تمام ملزمان کی گرفتاری ضروری ہے۔
ڈی پی او اوکاڑہ ڈاکٹر اسد اعجاز ملہی نے کہا کہ باقی ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس کی ٹیمیں متحرک ہیں اور ملزمان کو جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کے جان و مال اور عزت کا تحفظ پولیس کی اولین ذمہ داری ہے اور تشدد کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ محمد اکرام ملک نے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ اور اس کے عملے کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی جاری رکھنے اور گرین بس سروس کے عملے کو تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
دوسری جانب گرین بس کے کیپٹن ناصر نے پولیس کی جانب سے بروقت کارروائی اور ایک ملزم کی گرفتاری کو سراہا ہے۔ اپنے ویڈیو بیان میں کیپٹن ناصر نے پولیس رسپانس پر اظہار تشکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ باقی ملزمان کو بھی جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔
اوکاڑہ پولیس کے ترجمان کے مطابق شہریوں کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ تشدد کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عملدرآمد جاری ہے اور واقعے میں ملوث تمام افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔










