عوامی تحریک کی میلاد کانفرنس، پنجاب بھر سے آنے والے قافلوں کا روٹ کیا ہوگا؟ پارکنگ کیا ہوگی؟ تفصیلات سامنے آگئیں

لاہور ( پنجاب پوسٹ ) لاہور ٹریفک پولیس نے مینار پاکستان پر ہونے والی عالمی میلاد کانفرنس کے سلسلے میں ٹریفک انتظامات مکمل کرلیے ہیں۔ کانفرنس کے شرکاء کی بڑی تعداد کے پیش نظر شہر میں ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے اور شرکاء کو جلسہ گاہ تک پہنچانے کے لیے جامع ٹریفک پلان مرتب کیا گیا ہے۔

ایس ایس پی سٹی زون مقصود لون تمام تر ٹریفک انتظامات کی نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ ٹریفک کو رواں رکھنے کے لیے تین شفٹوں میں مجموعی طور پر 4 ڈی ایس پیز، 20 انسپکٹرز اور 200 ٹریفک وارڈنز تعینات کیے گئے ہیں۔ٹریفک پولیس کے مطابق کانفرنس کے شرکاء کی گاڑیوں کے لیے 5 پارکنگ اسٹینڈز بھی قائم کیے گئے ہیں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور سڑکوں پر خراب ہونے والی گاڑیوں کو فوری طور پر ہٹانے کے لیے بریک ڈاؤن گاڑیاں اور فوک لفٹرز بھی تعینات کر دیے گئے ہیں۔

ٹریفک پلان کے مطابق گوجرانوالہ سے آنے والے کانفرنس کے تمام شرکاء سیالکوٹ موٹروے اور رنگ روڈ کے راستے مینار پاکستان پہنچیں گے، جبکہ فیصل آباد اور شیخوپورہ سے آنے والے شرکاء سگیاں روڈ اور نیازی شہید چوک کے راستے جلسہ گاہ تک پہنچ سکیں گے۔ساہیوال، اوکاڑہ اور ملتان روڈ جبکہ رائیونڈ روڈ سے آنے والی ٹریفک کو ٹھوکر نیاز بیگ، بابو صابو، بند روڈ اور نیازی شہید چوک کی جانب رہنمائی فراہم کی جائے گی تاکہ کانفرنس کے شرکاء مقررہ راستوں سے جلسہ گاہ تک پہنچ سکیں۔مال روڈ اور کینال روڈ سے آنے والے شہری اور کانفرنس کے شرکاء جلسہ گاہ تک پہنچنے کے لیے کچہری چوک اور داتا دربار کا راستہ استعمال کرسکیں گے۔

ٹریفک پولیس کے مطابق شرکاء کو جلسہ گاہ کے قریب اتارنے کے بعد گاڑیوں کو واپس نیازی شہید چوک اور محکمہ جنگلات کی پارکنگ کی جانب منتقل کیا جائے گا، جہاں انہیں مقررہ پارکنگ ایریاز میں کھڑا کیا جائے گا۔روٹین میں آنے والی ٹریفک کو متبادل راستوں کے ذریعے سبزی منڈی اور لاری اڈا کی جانب بھجوایا جائے گا تاکہ کانفرنس کے شرکاء کی آمدورفت کے دوران عام شہریوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔

ٹریفک پولیس کے مطابق ملتان روڈ اور چوبرجی کی جانب سے آنے والی بسوں، کوسٹرز اور ویگنز کو پیر مکی کے راستے آزادی فلائی اوور سے احمد علی روڈ کی جانب لے جاکر مقررہ پارکنگ میں کھڑا کیا جائے گا۔سی ٹی او لاہور نے واضح کیا ہے کہ کانفرنس کے دوران کسی بھی روڈ کو ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند نہیں کیا جائے گا۔ شہریوں کی آمدورفت کو ممکنہ حد تک رواں رکھنے کے لیے ٹریفک پولیس اہلکار مختلف مقامات پر تعینات رہیں گے اور ضرورت کے مطابق ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا جائے گا۔

سی ٹی او لاہور کے مطابق شہریوں کو ٹریفک کی صورتحال اور متبادل راستوں سے متعلق بروقت آگاہ رکھنے کے لیے راستہ ایف ایم، راستہ ایپ، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کیا جائے گا۔

ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق کانفرنس کے شرکاء سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ٹریفک وارڈنز کی ہدایات پر عمل کریں اور پارکنگ کے لیے صرف مقررہ مقامات استعمال کریں تاکہ ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہو۔

سید عبدالرحیم شیرازی نے کانفرنس کے شرکاء سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی مقام پر راستے یا پارکنگ سے متعلق رہنمائی درکار ہو تو موقع پر موجود ٹریفک وارڈنز سے مدد حاصل کریں۔

سی ٹی او لاہور نے مزید کہا کہ شہری یا کانفرنس کے شرکاء کسی بھی قسم کی مدد اور رہنمائی کے لیے ہیلپ لائن 15 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔ ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ کانفرنس کے دوران ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے اور شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے